الجاثية

جاثیہ

37 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    هَـٰذَا هُدًى ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ

    یہ (سر تاپا) ہدایت[1] ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے.[2]

    حواشی

    [1] یعنی قرآن۔ کیونکہ اس کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو کفروشرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لایا جائے۔ اس لیے اس کے سرتا پا ہدایت ہونے میں تو کوئی شرک نہیں۔ لیکن ہدایت ملے گی تو اسے ہی جو اس کے لیے اپنا سینہ وا کرے گا۔ بصورت دیگر، توع راہ دکھلائیں گے رہرو منزل ہی نہیں۔ والا معاملہ ہوگا۔ [2] أَلِيمٍ، عَذَابٌ کی صفت ہے، بعض اسے رِجْزٌ کی صفت بتاتے ہیں۔ رِجْزٌ بمعنی عَذَابٍ شَدِيدٍ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 کی تفسیر

    [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ ھٰذَا ھُدًی﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّؔجْزٍ اَلِیْمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاحقافالأحقاف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید