الجاثية

جاثیہ

37 آیاتمکیپارہ 25

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 28

    وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰٓ إِلَىٰ كِتَـٰبِهَا ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی[1] ۔ ہر گروه اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اپنے کیے کا بدلہ دیا جائے گا.

    حواشی

    [1] ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر گروہ ہی (چاہے وہ انبیا کے پیروکار ہوں یا ان کے مخالفین) خوف و دہشت کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوں گے (فتح القدیر) تاآنکہ سب کو حساب کتاب کے لیے بلایا جائے گا، جیسا کہ آیت کے اگلے حصے سے واضح ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 28 کی تفسیر

    [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا: ﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُ٘لَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُ٘لُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدe کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد: ﴿كُ٘لُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا﴾ (حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاحقافالأحقاف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید