الأحقاف

احقاف

35 آیاتمکیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 26

    وَلَقَدْ مَكَّنَّـٰهُمْ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّـٰكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَـٰرًا وَأَفْـِٔدَةً فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ أَبْصَـٰرُهُمْ وَلَآ أَفْـِٔدَتُهُم مِّن شَىْءٍ إِذْ كَانُوا۟ يَجْحَدُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

    اور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وه مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا[1] جبکہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وه مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی.[2]

    حواشی

    [1] یہ اہل مکہ کو خطاب کرکے کہا جا رہا ہے کہ تم کیا چیز ہو؟ تم سے پہلی قومیں، جنہیں ہم نے ہلاک کیا، قوت وشوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں،لیکن جب انہوں نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں (آنکھ، کان اور دل) کو حق کے سننے، دیکھنے اور اسے سمجھنے کے لئے استعمال نہیں کیا، تو بالآخر ہم نے انہیں تباہ کر دیا اور یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہ آسکیں۔ [2] یعنی جس عذاب کو وہ انہونا سمجھ کر بطور استہزا کہا کرتے تھے کہ لے آ اپنا عذاب ! جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے، وہ عذاب آیا اور اس نے انہیں گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 26 کی تفسیر

    [26] اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ مَكَّـنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّـنّٰكُمْ فِیْهِ﴾ ’’اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔ اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـِٕدَةً﴾ ’’اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔‘‘ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿ فَمَاۤ اَغْ٘نٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَلَاۤ اَفْـِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ﴾ ’’پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ﴾ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے‘‘ جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠﴾ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمحمدمحمد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید