محمد

محمد

38 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَآ أَنْهَـٰرٌ مِّن مَّآءٍ غَيْرِ ءَاسِنٍ وَأَنْهَـٰرٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُۥ وَأَنْهَـٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّـٰرِبِينَ وَأَنْهَـٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَـٰلِدٌ فِى ٱلنَّارِ وَسُقُوا۟ مَآءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَآءَهُمْ

    اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں[1] ، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ[2] اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے[3] اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں[4] اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا.[5]

    حواشی

    [1] آسِنٍ کے معنی، متغیر۔ یعنی بدل جانے والا، غیر آسن نہ بدلنے والا۔ یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہو جاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہو جاتا ہے۔ جنت کے پانی کی یہ خوبی ہوگی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا۔ یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جب پیو، تازہ، مفرح اور صحت افزا جب دنیا کا پانی خراب ہو سکتا ہے تو شریعت نے اسی لئے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے، جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے، کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہو جائے گا۔ [2] جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعض دفعہ خراب ہو جاتا ہے جو گایوں، بھینسوں اور بکریوں وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے۔ جنت کا دودھ چونکہ اس طرح جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکلے گا، بلکہ اس کی نہریں ہوں گی، اس لئے، جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا، خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا۔ [3] دنیا میں جو شراب ملتی ہے، وہ عام طور پر تلخ، بدمزہ اور بدبو دار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں پی کر انسان بالعموم حواس باختہ ہو جاتا ہے، اول فول بکتا ہے اور اپنے جسم تک کا ہوش اسے نہیں رہتا۔ جنت کی شراب دیکھنے میں حسین، ذائقے میں اعلیٰ اور نہایت خوشبودار ہوگی اور اسے پی کر کوئی انسان بہکے گا، نہ کوئی گرانی محسوس کرے گا۔ بلکہ ایسی لذت وفرحت محسوس کرے گا جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: «لا فِيهَا غَوْلٌ وَلا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ» (سورة الصافات: 47) نہ اسے چکر آئے گا نہ عقل جائے گی۔ مزید دیکھئے (سورة الواقعة: 19)۔ [4] یعنی شہد میں بالعموم جن چیزوں کی آمیزش کا امکان رہتا ہے، جس کا مشاہدہ دنیا میں عام ہے جنت میں ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ بالکل صاف شفاف ہوگا، کیونکہ یہ دنیا کی طرح مکھیوں سے حاصل کردہ نہیں ہوگا، بلکہ اس کی بھی نہریں ہوں گی۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے۔ نبی ﹲ نے فرمایا۔ جب بھی تم سوال کرو تو جنت الفردوس کی دعا کرو، اس لئے کہ وہ جنت کا درمیانہ اور اعلیٰ درجہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے (صحيح بخاري ، كتاب الجهاد، باب درجات المجاهدين في سبيل الله)۔ [5] یعنی جن کو جنت میں وہ اعلیٰ درجے نصیب ہوں گے جو مذکور ہوئے کیا وہ ایسے جہنمیوں کے برابر ہیں جن کا یہ حال ہوگا؟ ظاہر بات ہے ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک درجات میں ہوگا اور دوسرا درکات (جہنم) میں۔ ایک نعمتوں میں داد طرب وعیش دے رہاہوگا، دوسرا عذاب جہنم کی سختیاں جھیل رہا ہوگا۔ ایک اللہ کا مہمان ہوگا جہاں انواع واقسام کی چیزیں اس کی تواضع اور اکرام کے لئے ہوں گی اور دوسرا اللہ کا قیدی، جہاں اس کوکھانے کے زقوم جیسا تلخ وکسیلا کھانا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ ببی تفاوت ره از کجا است تابه کجا

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 کی تفسیر

    [15] یعنی جنت جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے لیے تیار کیا جو اس کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی رضا کی پیروی کی کہ یہ اس کی صفت اور اس کا وصف جمیل ہے ﴿ فِیْهَاۤ اَنْ٘هٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ﴾ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کسی مضر صحت امر، بدبو، حرارت اور گدلے پن کی وجہ سے متغیر نہ ہو گا بلکہ وہ صاف ترین اور شیریں ترین پانی ہو گا، اس کی خوشبو بہترین اور پینے میں نہایت لذیذ ہو گا۔ ﴿ وَاَنْ٘هٰرٌ مِّنْ لَّـبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ﴾ ’’اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلتا‘‘ یعنی خراب اور کھٹا ہو جانے کے باعث اس کا ذائقہ متغیر نہ ہوا ہو گا۔ ﴿ وَاَنْ٘هٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّ٘لشّٰرِبِیْنَ﴾ ’’اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لیے بڑی لذت ہے‘‘ یعنی اس شراب سے بہت زیادہ لذت حاصل ہو گی، دنیا کی شراب کی مانند نہیں کہ جس کا ذائقہ نہایت ناخوشگوار ہوتا ہے، جو سر کو چکرا دیتی ہے اور عقل کو خراب کر دیتی ہے ﴿ وَاَنْ٘هٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّ٘صَفًّى﴾ ’’اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہے۔‘‘ یعنی یہ شہد موم اور دیگر ہر قسم کے میل کچیل سے پاک ہو گا۔ ﴿ وَلَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُ٘لِّ الثَّ٘مَرٰتِ﴾ جنت میں کھجور، انگور، سیب، انار، لیموں، انجیر اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے پھل ہوں گے جن کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔ یہ تمام محبوب و مطلوب چیزیں انھیں حاصل ہوں گی۔ پھر فرمایا: ﴿ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ﴾ ’’اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔‘‘ جس سے وہ امور زائل ہوجائیں گے جو ڈرانے والے ہیں۔ پس یہ لوگ بہتر ہیں یا وہ شخص جو ہمیشہ آگ میں رہے گا، جس کی حرارت نہایت شدید ہو گی اور اس کا عذاب کئی گنا ہو گا ﴿وَسُقُوْا﴾ ’’اور انھیں پلایا جائے گا۔‘‘ یعنی جہنم میں ﴿ مَآءً حَمِیْمًا﴾ سخت کھولتا ہوا پانی ﴿ فَ٘قَ٘طَّ٘عَ اَمْعَآءَهُمْ﴾ جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے دونوں گھروں یعنی جنت اور جہنم، دونوں قسم کی جزاؤ ں، دونوں قسم کے عمل کرنے والوں اور دونوں قسم کے اعمال میں تفاوت رکھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفتحالفتح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید