محمد

محمد

38 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 21

    طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ ٱلْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا۟ ٱللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ

    فرمان کا بجا ﻻنا اور اچھی بات کا کہنا[1] ۔ پھر جب کام مقرر ہو جائے[2]، تو اللہ کے ساتھ سچے رہیں[3] تو ان کے لئے بہتری ہے.[4]

    حواشی

    [1] یعنی حکم جہاد سے گھبرانے کے بجائے ان کے لئے بہتر تھا کہ وہ سمع وطاعت کا مظاہرہ کرتے اور نبی (صلى الله عليه وسلم)کی بابت، گستاخی کے بجائے، اچھی بات کہتے۔ یہ أَوْلَى بمعنی أَجْدَرُ (بہتر) ہے، جسے ابن کثیرنے اختیار کیا ہے۔ بعض نے اولیٰ کو تہدید ووعید کا کلمہ یعنی بددعا قرار دیا ہے۔ مَعْنَاهُ قَارَبَهُ مَا يُهْلِكُهُ (ان کی ہلاکت قریب ہے) مطلب ہے، ان کی بزدلی اور نفاق ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اس اعتبار سے طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ جملہ مستانفہ ہوگا اور اس کی خبر محذوف ہوگی خَيْرٌ لَّكُمْ (فتح القدیر، ایسر التفاسیر)۔ [2] یعنی جہاد کی تیاری مکمل ہو جائے اور وقت جہاد آجائے۔ [3] یعنی اگر اب بھی نفاق چھوڑ کر، اپنی نیت اللہ کے لئے خالص کر لیں، یا رسول کے سامنے رسول (صلى الله عليه وسلم)کے ساتھ لڑنے کا جو عہد کرتے ہیں، اس میں اللہ سے سچے رہیں۔ [4] یعنی نفاق اور مخالفت کے مقابلے میں توبہ واخلاص کا مظاہرہ بہتر ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 20 - 21 کی تفسیر

    [21,20] ﴿ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ﴾ یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔ ﴿ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں: (۱) بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔ (۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں) منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔ (۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفتحالفتح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید