محمد

محمد

38 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 34

    إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ مَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ

    جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے اوروں کو روکا پھر کفر کی حالت میں ہی مرگئے (یقین کر لو) کہ اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 34 کی تفسیر

    [34] یہ آیت کریمہ اور وہ جو سورۂ بقرہ میں وارد ہوئی ہے یعنی ﴿ وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ﴾ (البقرہ:2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘ یہ دونوں آیات ہر اس نصِ مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا ﴿ وَصَدُّوْا﴾ اور مخلوق کو روکا ﴿ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی راہ سے ‘‘ انھیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے كے ذريعے سے﴿ ثُمَّ مَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ﴾ ’’پھر کافر ہی مر گئے۔‘‘ اور انھوں نے کفر سے توبہ نہ کی ﴿ فَلَ٘نْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ﴾ تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لیے عذاب واجب ہو چکا، وہ ثواب سے محروم ہو گئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہو گیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہو گئے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا، ان پر رحم کر کے جنت میں داخل کر دے گا خواہ انھوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا... اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انھیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انھوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 34 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفتحالفتح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید