محمد

محمد

38 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 35

    فَلَا تَهِنُوا۟ وَتَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱلسَّلْمِ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَـٰلَكُمْ

    پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر نہ اتر آؤ جبکہ تم ہی بلند وغالب رہو گے[1] اور اللہ تمہارے ساتھ ہے[2]، ناممکن ہے کہ وه تمہارے اعمال ضائع کر دے.[3]

    حواشی

    [1] مطلب یہ ہے کہ جب تم تعداد اور قوت وطاقت کے اعتبار سےدشمن پر غالب اور فائق تر ہو تو ایسی صورت میں کفار کے ساتھ صلح اور کمزوری کا مظاہرہ مت کرو، بلکہ کفر پر ایسی کاری ضرب لگاؤ کہ اللہ کا دین سر بلند ہو جائے۔ غالب وبرتر ہوتےہوئے کفر کےساتھ مصالحت کا مطلب، کفر کےاثر ونفوذ کے بڑھانے میں مدد دینا ہے۔ یہ ایک بڑا جرم ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافروں کے ساتھ صلح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ اجازت یقیناً ہے، لیکن ہر وقت نہیں۔ صرف اس وقت ہےجب مسلمان تعداد میں کم اوروسائل کے لحاظ سے فروتر ہوں۔ ایسے حالات میں لڑائی کی بہ نسبت صلح میں زیادہ فائدہ ہے تاکہ مسلمان اس موقعے سےفائدہ اٹھا کر بھرپور تیاری کر لیں، جیسے خود نبی ﹲ نےکفار مکہ سے جنگ نہ کرنے کا دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔ [2] اس میں مسلمانوں کے لئے دشمن پر فتح ونصرت کی عظیم بشارت ہے۔ جس کے ساتھ اللہ ہو، اس کو کون شکست دے سکتاہے؟ [3] بلکہ وہ اس پر پورا اجر دے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 35 کی تفسیر

    [35] اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَلَا تَهِنُوْا﴾ یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لیے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لیے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ حالانکہ ﴿ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ مَعَكُمْ وَلَ٘نْ یَّتِرَؔكُمْ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا‘‘﴿ اَعْمَالَكُمْ﴾ ’’تمھارے اعمال میں۔‘‘ یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے: (۱) ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لیے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔ (۲) اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔ (۳) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَا یَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَلَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّـیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ۰۰ وَلَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّلَا كَبِیْرَةً وَّلَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیً٘ا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾ (التوبہ:9؍120-121) ’’یہ اس سبب سے ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔‘‘ جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لیے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجر و ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیسی کیفیت ہو گی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجتمع ہوں؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ترغیب اور ایسے امور کے لیے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفتحالفتح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید