محمد

محمد

38 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 38

    هَـٰٓأَنتُمْ هَـٰٓؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ ۖ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ ٱلْغَنِىُّ وَأَنتُمُ ٱلْفُقَرَآءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوٓا۟ أَمْثَـٰلَكُم

    خبردار! تم وه لوگ ہو کہ اللہ کی راه میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو[1] ، تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وه تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے[2]۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم فقیر (اور محتاج) ہو[3] اور اگر تم روگردان ہو جاؤ[4] تو وه تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو ﻻئے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے.[5]

    حواشی

    [1] یعنی کچھ حصہ زکوٰۃ کے طور پر اور کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ [2] یعنی اپنے ہی نفس کو انفاق فی سبیل اللہ کے اجر سے محروم رکھتا ہے۔ [3] یعنی اللہ تمہیں خرچ کرنے کی ترغیب اس لئے نہیں دیتا کہ وہ تمہارے مال کا ضرورت مند ہے۔ نہیں، وہ تو غنی ہے، بے نیاز ہے، وہ تو تمہارے ہی فائدے کے لئے تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ اس سے ایک تو تمہارے اپنےنفسوں کا تزکیہ ہو۔ دوسرے، تمہارے ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری ہوں۔ تیسرے، تم دشمن پر غالب اور برتر رہو۔ اس لئے اللہ کی رحمت اور مدد کے محتاج تم ہو نہ کہ اللہ تمہارا محتاج ہے۔ [4] یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جاؤ۔ [5] بلکہ تم سے زیادہ اللہ اور رسول کے اطاعت گزار اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرنے والےہوں گے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے اس کی بابت پوچھا گیا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نےحضرت سلمان فارسی (رضي الله عنه) کےکندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اس سے مراد یہ اور اس کی قوم ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ایمان ثریا (ستارے) کے ساتھ بھی لٹکا ہوا ہو تو اس کو فارس کے کچھ لوگ حاصل کر لیں گے۔ (الترمذي، ذكره الألباني في الصحيحة 3 / 14)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 38 کی تفسیر

    [38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔ پھر فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْ٘فُ٘قَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَؔكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَهٗۤ﴾ (المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 38 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفتحالفتح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید