الفتح

فتح

29 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 10

    إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَـٰهَدَ عَلَيْهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

    جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وه یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں[1] ، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے[2]، تو جو شخص عہد شکنی کرے وه اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے[3] اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے[4] تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا.

    حواشی

    [1] یعنی یہ بیعت دراصل اللہ ہی کی ہے، کیونکہ اسی نے جہاد کا حکم دیا اور اس پر اجر بھی وہی عطا فرمائے گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ اپنے نفسوں اور مالوں کا جنت کے بدلے اللہ کے ساتھ سودا ہے (التوبۃ: 111) یہ اسی طرح ہے جیسے «مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ» (النساء:80)۔ [2] آیت سے وہی بیعت رضوان مراد ہےجو نبی(صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) کی خبر شہادت سن کر ان کا انتقام لینے کے حدیبیہ میں موجود 14 یا 15 سو مسلمانوں سے لی تھی۔ [3] نَكْثٌ (عہد شکنی) سے مراد یہاں بیعت کا توڑ دینا یعنی عہد کے مطابق لڑائی میں حصہ نہ لینا ہے۔ یعنی جو شخص ایسا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ [4] کہ وہ اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مدد کرے گا، ان کے ساتھ ہو کر لڑے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح وغلبہ عطا فرما دے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 10 کی تفسیر

    [10] یہ بیعت جس کی طرف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ’’بیعت رضوان‘‘ ہے، اس میں صحابہ کرام y نے رسول اللہe کے ہاتھ پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوں گے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہ ہوں، خواہ بہت ہی تھوڑے لوگ کیوں نہ باقی رہ جائیں اور خواہ ایسی صورت حال میں ہوں جہاں فرار ہونا جائز ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں، حقیقتِ امر یہ ہے کہ وہ ﴿ یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ﴾ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یہ اس کی شدت تاکید ہے کہ فرمایا: ﴿یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ﴾ ’’اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔‘‘ گویا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کی ہے اور اس بیعت میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مصافحہ کیا ہے۔ یہ سب کچھ زیادہ تاکید، تقویت اور ان کو اس بیعت کے پورا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا، بنابریں فرمایا: ﴿فَ٘مَنْ نَّـكَثَ﴾ ’’پس جو بیعت کو توڑے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اسے پورا نہ کرے ﴿فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ﴾ ’’تو بے شک عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔‘‘ کیونکہ اس کا وبال اسی کی طرف لوٹے گا اور اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ ﴿وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ ﴾ ’’اور جو اس بات کو جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، پورا کرے۔‘‘ یعنی اس معاہدے پر کامل طور پر عمل کرے ﴿فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾ ’’تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا۔‘‘ اس اجر کی عظمت اور قدر کو صرف وہی جان سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ یہ اجر عطا کرے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجراتالحجرات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید