الفتح

فتح

29 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 12

    بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِى قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًۢا بُورًا

    (نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا[1] ۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے.[2]

    حواشی

    [1] اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول ﹲ کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔ [2] بُورٌ، بَائِرٌ کی جمع ہے، ہلاک ہونے والا، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے۔ اگر دنیا میں یہ اللہ کےعذاب سےبچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جا سکتے وہاں تو عذاب ہر صورت میں بھگتنا ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 - 13 کی تفسیر

    [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہe کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہe کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہe سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ۠ مَّا لَ٘یْسَ فِیْ قُ٘لُوْبِهِمْ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہe سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔ پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہe کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنْ لَّ٘نْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں: (۱) وہ ﴿ قَوْمًۢا بُوْرًا﴾ ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔ (۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ٘ اَعْتَدْنَا لِلْ٘كٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجراتالحجرات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید