الفتح

فتح

29 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 16

    قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُو۟لِى بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَـٰتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا۟ يُؤْتِكُمُ ٱللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

    آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑوگے یا وه مسلمان ہوجائیں گے[1] پس اگر تم اطاعت کرو[2] گے تو اللہ تمہیں بہت بہتر بدلہ دے گا[3] اور اگر تم نے منھ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منھ پھیر چکے ہو تو وه تمہیں دردناک عذاب دے گا.[4]

    حواشی

    [1] اس جنگ جو قوم کی تعیین میں اختلاف ہے، بعض مفسرین اس سےعرب کے ہی بعض قبائل مراد لیتے ہیں، مثلاً ہوازن یا ثقیف، جن سے حنین کےمقام پر مسلمانوں کی جنگ ہوئی۔ یا مسیلمہ الکذاب کی قوم بنو حنیفہ۔ اور بعض نے فارس اور روم کے مجوسی وعیسائی مراد لیے ہیں۔ ان پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہا جار ہا ہے کہ عنقریب ایک جنگجو قوم سے مقابلے کے لئے تمہیں بلایا جائے گا۔ اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو تمہاری اور ان کی جنگ ہوگی۔ [2] یعنی خلوص دل سے مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑو گے۔ [3] دنیا میں غنیمت اور آخرت میں پچھلے گناہوں کی مغفرت اور جنت۔ [4] یعنی جس طرح حدیبیہ کے موقعے پر تم نےمسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے سے گریز کیا تھا، اسی طرح اب بھی تم جہاد سے بھاگو گے، تو پھر اللہ کا درد ناک عذاب تمہارے لئےتیار ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 16 کی تفسیر

    [16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَ٘اْسٍ شَدِیْدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہe ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنْ تُطِیْعُوْا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہe نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابً٘ا اَلِیْمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجراتالحجرات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید