الفتح

فتح

29 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 20

    وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰذِهِۦ وَكَفَّ أَيْدِىَ ٱلنَّاسِ عَنكُمْ وَلِتَكُونَ ءَايَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَٰطًا مُّسْتَقِيمًا

    اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا وعده کیا ہے[1] جنہیں تم حاصل کرو گے پس یہ تو تمہیں جلدی ہی عطا فرما دی[2] اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے[3]، تاکہ مومنوں کے لئے یہ ایک نشانی ہو جائے[4] اور (تاکہ) وه تمہیں سیدھی راه چلائے.[5]

    حواشی

    [1] یہ دیگر فتوحات کےنتیجے میں حاصل ہونے والی غنیمتوں کی خوش خبری ہے جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہونے والی ہیں۔ [2] یعنی فتح خیبر یا صلح حدیبیہ، کیونکہ یہ دونوں تو فوری طور پر مسلمانوں کو حاصل ہوگئیں۔ [3] حدیبیہ میں کافروں کے ہاتھ اور خیبر میں یہودیوں کے ہاتھ اللہ نے روک دیئے، یعنی ان کے حوصلے پست کر دیئے اور وہ مسلمانوں سے مصروف پیکار نہیں ہوئے۔ [4] یعنی لوگ اس واقعے کا تذکرہ پڑھ کر اندازہ لگا لیں گے کہ اللہ تعالیٰ قلت تعداد کے باوجود مسلمانوں کا محافظ اور دشمنوں پر ان کو غالب کرنے والا ہے یا یہ روک لینا، تمام موعودہ باتوں میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کی نشانی ہے۔ [5] یعنی ہدایت پر استقامت عطا فرمائے یا اس نشانی سے تمہیں ہدایت میں اور زیادہ کرے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 20 کی تفسیر

    [20] ﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰؔذِهٖ﴾ ’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔ ﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنْكُمْ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوْنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَیَهْدِیَكُمْ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجراتالحجرات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید