الفتح

فتح

29 آیاتمدنیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    وَهُوَ ٱلَّذِى كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنۢ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا

    وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا[1] ، اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے.

    حواشی

    [1] جب نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے 80 آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر انہیں موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ (رضي الله عنهم) کے خلاف کاروائی کریں چنانچہ یہ مسلح جتھہ جبل تنعیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا، جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کرکے ان تمام آدمیوں کوگرفتار کر لیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کر دیا۔ ان کا جرم تو شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر جنگ ناگزیر ہو جاتی۔ جب کہ نبی(صلى الله عليه وسلم) اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اسی میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چنانچہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا۔ (صحيح مسلم، كتاب الجهاد، باب قول الله تعالى وهو الذي كف أيديهم عنكم) بطن مکہ سے مراد حدیبیہ ہے۔ یعنی حدیبیہ میں ہم نے تمہیں کفار سے اور کفار کو تم سے لڑنے سے روکا۔ یہ اللہ نے احسان کے طور ذکر فرمایا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے: ﴿ وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔‘‘ یعنی اہل مکہ کے ﴿ عَنْكُمْ وَاَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّـةَ٘ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْ٘فَرَؔكُمْ عَلَیْهِمْ ﴾ ’’تم سے اور تمھارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمھیں فتح دینے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ تمھیں ان پر قدرت حاصل ہو گئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمھاری ولایت اور سرپرستی میں آ گئے اور وہ تقریباً اسی(80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بے خبری میں ان کو آ لیں مگر انھوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انھوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمھاری تدبیر کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجراتالحجرات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید