المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 103

    مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٍ وَلَا سَآئِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَـٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

    اللہ تعالیٰ نے نہ بحیره کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو[1] لیکن جو لوگ کافر ہیں وه اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہیں اور اکثر کافر عقل نہیں رکھتے۔

    حواشی

    [1] یہ ان جانوروں کی قسمیں ہیں جو اہل عرب اپنے بتوں کی نذر کر دیا کرتے تھے۔ ان کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب (رحمۃ اللہ علیہ) سے صحیح بخاری میں اس کی تفسیر حسب ذیل نقل کی گئی ہے۔”بَحِيرَةٍ“: وہ جانور، جس کا دودھ دوہنا چھوڑ دیا جاتا اور کہا جاتا کہ یہ بتوں کے لئے ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اس کے تھنوں کو ہاتھ نہ لگاتا۔ ”سَآئِبَة“: وہ جانور، جسے وہ بتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اسے نہ سواری کے لئے استعمال کرتے نہ باربرداری کے لئے۔ ”وَصِيلَةٍ“: وہ اونٹنی، جس سے پہلی مرتبہ مادہ پیدا ہوتی اور اس کے بعد پھر دوبارہ بھی مادہ ہی پیدا ہوتی۔ (یعنی ایک مادہ کے بعد دوسری مادہ مل گئی، ان کے درمیان کسی نر سے تفریق نہیں ہوئی) ایسی اونٹنی کو بھی وہ بتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیتے تھے اور ”حَامٍ“: وہ نر اونٹ، جس کی نسل سے کئی بچے ہوچکے ہوتے۔ (اور نسل کافی بڑھ جاتی) تو اس سے بھی باربرداری یا سواری کا کام نہ لیتے اور بتوں کے لئے چھوڑ دیتے اور اسے وہ حامی کہتے۔ اسی روایت میں یہ حدیث بھی بیان کی گئی ہے کہ سب سے پہلے بتوں کے جانور آزاد چھوڑنے والا شخص عمروبن عامر خزاعی تھا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) فرماتے ہیں کہ میں نے اسے جہنم میں انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا (صحيح بخاري- تفسير سورة المائدة) آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو اس طرح مشروع نہیں کیا ہے، کیونکہ اس نے تو نذر ونیاز صرف اپنے لئے خاص کر رکھی ہے۔ بتوں کے لئے نذرونیاز کے طریقے مشرکوں نے ایجاد کئے ہیں اور بتوں اور معبودان باطل کے نام پر جانور چھوڑنے اور نذر نیاز پیش کرنے کا یہ سلسلہ آج بھی مشرکوں میں بلکہ بہت سے نام نہاد مسلمانوں میں بھی قائم و جاری ہے۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 103 کی تفسیر

    [103] یہ مشرکین کی مذمت ہے جنھوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے لی تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا، چنانچہ انھوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ ﴾ ’’نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ‘‘ (بَحِیرَہ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کر لیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ ﴿وَّلَا سَآىِٕبَةٍ ﴾ ’’اور نہ سائبہ‘‘ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہو جاتی تو اسے سائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا۔ اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے مال میں سے کچھ نذر مان کر اس کو ’’سائبہ‘‘ بنا کر چھوڑ دیتے تھے۔ ﴿ وَّلَا حَامٍ ﴾ ’’اور نہ حام‘‘ یعنی اونٹ جب ایک خاص حالت کو پہنچ جاتا جو ان کے ہاں معروف تھی تو اس اونٹ پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر سامان لادا جاتا تھا۔ ان تمام چیزوں کو مشرکین نے بغیر کسی دلیل اور برہان کے حرام قرار دے رکھا تھا یہ اللہ تعالیٰ پر افترا اور بہتان تھا جو ان کی جہالت اور بے عقلی سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَّلٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَاَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ﴾ ’’لیکن کافر اللہ پر افترا باندھتے تھے اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے تھے‘‘ ان مذکورہ امور میں کوئی نقلی دلیل تھی نہ عقلی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 103 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید