المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 21

    يَـٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَـٰسِرِينَ

    اے میری قوم والو! اس مقدس زمین[1] میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے[2] اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو[3] کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔

    حواشی

    [1] بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب (عليه السلام) کا مسکن بیت المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف (عليه السلام) کے امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہوگئے تھے اور پھر تب سے اس وقت تک مصر ہی میں رہے، جب تک کہ موسیٰ (عليه السلام) انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت موسی (عليه السلام) نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنواسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ (ابن کثیر ) [2] اس سے مراد وہی فتح و نصرت ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی صورت میں ان سے کر رکھا تھا۔ [3] یعنی جہاد سے اعراض مت کرو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 21 کی تفسیر

    [21] بنابریں فرمایا: ﴿یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَ٘ارِكُمْ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید