المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَـٰمِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ۚ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَـٰمَ دِينًا ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو[1] اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو[2] اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو[3] اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو[4] اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو[5] اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو[6] لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں[7] اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو[8] اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو[9] یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے۔[10]

    حواشی

    [1] یہاں سے ان محرمات کا ذکر شروع ہورہا ہے جن کا حوالہ سورت کے آغاز میں دیا گیا ہے۔ آیت کا اتنا حصہ سورۂ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ (دیکھیےآیت نمبر 173) [2] گلا کوئی شخص گھونٹ دے یا کسی چیز میں پھنس کر خود گلا گھٹ جائے۔ دونوں صورتوں میں مردہ جانور حرام ہے۔ [3] کسی نے پتھر، لاٹھی یا کوئی اور چیز ماری جس سے وہ بغیر ذبح کئے مر گیا۔ زمانۂ جاہلیت میں ایسے جانوروں کو کھا لیا جاتا تھا۔ شریعت نے منع کردیا۔ بندوق کا شکار: بندوق کا شکار کئے ہوئے جانور کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بندوق کے شکار کو حلال قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر) یعنی اگر بسم اللہ پڑھ کر گولی چلائی گئی اور شکار ذبح سے پہلے ہی مر گیا تو اس کا کھانا اس قول کے مطابق حلال ہے۔ [4] چاہے خود گرا ہو یا کسی نے پہاڑ وغیرہ سے دھکا دے کر گرایا ہو۔ [5] ”نَطِيحَةٌ“، ”مَنْطُوحَةٌ“ کے معنی میں ہے۔ یعنی کسی نے اسے ٹکر مار دی اور بغیر ذبح کئے وہ مر گیا۔ [6] یعنی شیر، چیتا اور بھیڑیا وغیرہ جسے ذو ناب (کچلیوں سے شکار کرنے والے درندوں میں سے کسی نے) اسے کھایا ہو اور وہ مر گیا ہو۔ زمانۂ جاہلیت میں مرجانے کے باوجود ایسے جانور کو کھا لیا جاتا تھا۔ [7] جمہور مفسرین کے نزدیک یہ استثنا تمام مذکورہ جانوروں کے لئے ہے یعنی مُنْخَنِقَةٌ، مَوْقُوذَةٌ، مُتَرَدِّيَةٌ، نَطِيحَةٌ اور درندوں کا کھایا ہوا، اگر تم انہیں اس حال میں پالو کہ ان میں زندگی کے آثار موجود ہوں اور پھر تم انہیں شرعی طریقے سے ذبح کرلو تو تمہارے لئے ان کا کھانا حلال ہوگا۔ زندگی کی علامت یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور پھڑکے اور ٹانگیں مارے۔ اگر چھری پھیرتے وقت یہ اضطراب و حرکت نہ ہو تو سمجھ لو یہ مردہ ہے۔ ذبح کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر تیز دھار آلے سے اس کا گلا اس طرح کاٹا جائے کہ رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کے علاوہ نحر بھی مشروع ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے جانور کے لبے پر چھری ماری جائے (اونٹ کو نحر کیا جاتا ہے) جس سے نرخرہ اور خون کی خاص رگیں کٹ جاتی ہیں اور سارا خون بہہ جاتا ہے۔ [8] مشرکین اپنے بتوں کے قریب پتھر یا کوئی چیز نصب کرکے ایک خاص جگہ، بناتے تھے۔ جسے نصب (تھان یا آستانہ) کہتے تھے۔ اسی پر وہ بتوں کے نام نذر کئے گئے جانوروں کو ذبح کرتے تھے یعنی یہ ”وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ“ ہی کی ایک شکل تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آستانوں، مقبروں اور درگاہوں پر، جہاں لوگ طلب حاجات کے لئے جاتے ہیں اور وہاں مدفون افراد کی خوشنودی کے لئے جانور (مرغا، بکرا وغیرہ) ذبح کرتے ہیں، یا پکی ہوئی دیگیں تقسیم کرتے ہیں، ان کا کھانا حرام ہے یہ ”وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ“ میں داخل ہیں۔ [9] ”وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالأَزْلامِ“ کے دو معنی کئے گئے ہیں ایک تیروں کے ذریعے تقسیم کرنا دوسرے، تیروں کے ذریعہ قسمت معلوم کرنا، پہلے معنی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ جوئے وغیرہ میں ذبح شدہ جانور کی تقسیم کے لئے یہ تیر ہوتے تھے جس میں کسی کو کچھ مل جاتا، کوئی محروم رہ جاتا۔ دوسرے، معنی کی رو سے کہا گیا ہے کہ ازلام سے مراد تیر ہیں جن سے وہ کسی کام کا آغاز کرتے وقت فال لیا کرتے تھے۔ انہوں نے تین قسم کے تیر بنا رکھے تھے۔ ایک افْعَلْ ( کر) دوسرے میں لا تَفْعَلْ (نہ کر) اور تیسرے میں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ افْعَلْ والا تیر نکل آتا تو وہ کام کرلیا جاتا، لا تَفْعَلْ والا نکلتا تو نہ کرتے اور تیسرا تیر نکل آتا تو پھر دوبارہ فال نکالتے۔ یہ بھی گویا کہانت اور ”اسْتِمْدَادٌ بِغَيْرِ اللهِ“ کی شکل ہے، اس لئے اسے بھی حرام کردیا گیا استقسام کے معنی طلب قسمت ہیں۔ یعنی تیروں سے قسمت طلب کرتے تھے۔ [10] یہ بھوک کی اضطراری کیفیت میں مذکورہ محرمات کے کھانے کی اجازت ہے بشرطیکہ مقصد اللہ کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنا نہ ہو، صرف جان بچانا مطلوب ہو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 3 کی تفسیر

    [3] یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد جس کا اس نے اس آیت کریمہ ﴿ اِلَّا مَا یُتْ٘لٰى٘٘ عَلَیْكُمْ ﴾ میں حوالہ دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہ اپنے بندوں کی حفاظت اور ان کو اس ضرر سے بچانے کے لیے حرام قرار دی ہے جو ان محرمات میں ہوتا ہے۔ کبھی تو اللہ تعالیٰ یہ ضرر اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دیتا ہے اور کبھی (اپنی حکمت کے تحت) اس ضرر کو بیان نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ’’مردار‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔ مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح ہوئے بغیر زندگی سے محروم ہو گیا ہو، پس اس جانور کا گوشت ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور وہ ضرر ہے اس کے اندر گوشت میں خون کا رک جانا، جس کے کھانے سے نقصان پہنچتا ہے اور اکثر جانور، جو کسی بیماری کی وجہ سے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے، مر جاتے ہیں ، وہ کھانے والے کے لیے نقصان کا باعث ہیں ، البتہ مری ہوئی ٹڈی اور مچھلی اس حکم سے مستثنی ہے۔ کیونکہ ان کا کھانا حلال ہے۔( یہ استثناء حدیث سے ثابت ہے، (سنن ابن ماجہ، حدیث: 3218) اسی لیے صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کے ساتھ ہی قرآن کی تفہیم اور اس کے احکامات کی تعمیل کی تکمیل ہوتی ہے۔ (ص ۔ ی) ﴿وَالدَّمُ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کو اس صفت سے مقید بیان کیا گیا ہے ﴿ وَلَحْمُ الْخِنْ٘زِیْرِ ﴾ ’’اور سور کا گوشت‘‘ اس حرمت میں اس کے تمام اجزا شامل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ناپاک درندوں میں سے خنزیر کو خاص طور پر منصوص کیا ہے کیونکہ اہل کتاب میں سے نصاریٰ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کو حلال قرار دیا ہے...، یعنی نصاریٰ سے دھوکہ نہ کھانا کیونکہ یہ خنزیر بھی حرام اور من جملہ خبائث کے ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ ’’اور وہ جس پر غیراللہ کا نام پکارا جائے‘‘ یعنی اس پر بتوں ، اولیاء، کواکب اور دیگر مخلوق کا نام لیا گیا ہو۔ جس طرح ذبیحہ پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا، اسے پاک کر دیتا ہے اسی طرح غیر اللہ کا نام، ذبیحہ کو معنوی طور پر ناپاک کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ شرک ہے ﴿ وَالْمُنْخَنِقَةُ ﴾ ’’جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے۔‘‘ یہ وہ مرا ہوا جانور ہے جس کو ہاتھ سے، رسی سے یا کسی تنگ چیز میں اس کا سر داخل کر کے جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہو اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہو۔ ﴿ وَالْ٘مَوْقُ٘وْذَةُ ﴾ ’’جو چوٹ لگ کر مرجائے۔‘‘ اس مرے ہوئے جانور کو کہا جاتا ہے جو لاٹھی، پتھر یا لکڑی وغیرہ کی ضرب سے مرا ہو یا اس پر قصداً یا بغیر قصد کے دیوار وغیرہ گر گئی ہو ﴿ وَالْمُتَرَدِّیَةُ۠ ﴾ ’’جو گر کر مرجائے۔‘‘ یعنی جو بلند جگہ ، مثلاً: پہاڑ، دیوار یا چھت وغیرہ سے گر کر مر گیا ہو ﴿وَالنَّطِیْحَةُ ﴾ اس مرے ہوئے جانور کو کہتے ہیں جسے کسی دوسرے جانور نے سینگ مار کر ہلاک کر دیا ہو ﴿ وَمَاۤ اَكَ٘لَ السَّبُعُ ﴾ جسے بھیڑیے، شیر، چیتے یا کسی شکاری پرندے وغیرہ نے پھاڑ کھایا ہو۔ اگر درندے کے پھاڑ کھانے سے جانور مر جائے تو یہ حلال نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا مَا ذَكَّـیْتُمْ ﴾ ’’مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو۔‘‘ گلا گھٹ کر مرنے والے، چوٹ لگ کر مرنے والے، بلندی سے گر کر مرنے والے اور درندے کے پھاڑ کھانے سے مرنے والے جانور کی طرف راجع ہے۔ اگر اس جانور میں پوری طرح زندگی موجود ہو اور اسے ذبح کر لیا جائے تو یہ جانور شرعی طور پر مذبوح ہے۔ بنابریں فقہاء کہتے ہیں ’’اگر کسی درندے وغیرہ نے کسی جانور کو چیر پھاڑ کر اس کی آنتیں اور دیگر اندرونی اعضا کو باہر نکال کر علیحدہ علیحدہ کر دیا ہو یا اس کا حلقوم کاٹ دیا ہو تو اس میں زندگی کا وجود اور عدم وجود مساوی ہیں ۔ کیونکہ اب اس کو ذبح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘بعض فقہاء اس میں صرف زندگی کے وجود کا اعتبار کرتے ہیں ۔ اگر اس جانور میں بھی زندگی کا وجود ہو اور اس حالت میں اس کو ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہے خواہ اس کا اندرونی حصہ بکھیر ہی کیوں نہ دیا گیا ہو۔ آیت کریمہ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ وَاَنْ تَ٘سْ٘تَ٘قْ٘سِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ﴾ ’’اور یہ کہ پانسوں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرو۔‘‘ یعنی تمھیں تیروں کے ذریعے سے قسمت کا حال معلوم کرنے سے منع کر دیا گیا۔ استسقام کے معنی یہ ہیں کہ جو تمھارے مقسوم اور مقدر میں ہے اسے طلب کرنا۔ جاہلیت کے زمانے میں تین تیر ہوتے تھے جن کو اس کام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جن میں سے ایک پر لکھا ہوتا تھا کہ ’’یہ کام کر‘‘ دوسرے پر لکھا ہوتا تھا ’’یہ کام نہ کر‘‘ اور تیسرا تیر خالی ہوتا تھا۔ جب کوئی شخص کسی سفر پر روانہ ہونے لگتا یا شادی وغیرہ کرتا تو تینوں تیر کسی ڈونگی وغیرہ میں رکھ کر گھماتے پھر ان میں سے ایک تیر نکال لیتے اگر اس پر لکھا ہوتا ’’یہ کام کر‘‘ تو وہ یہ کام کر لیتا اور اگر لکھا ہوتا ’’یہ کام نہ کر‘‘ تو وہ اس کام میں ہاتھ نہ ڈالتا۔ اگر وہ تیر نکل آتا جس پر کچھ بھی نہ لکھا ہوتا تو وہ اس عمل کا اعادہ کرتا یہاں تک کہ لکھا ہوا تیر نکل آتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اس عمل کو اس صورت میں یا اس سے مشابہ صورت میں حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض ان کو تمام امور میں اپنے رب سے استخارہ کرنے کا حکم دیا (جیسا کہ حدیث نبوی سے استخارے کی تاکید ہے۔ جامع الترمذي، حدیث: ۴۸۰) ﴿ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ ﴾ ’’یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔‘‘ یہ ان تمام محرمات کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ یہ تمام محرمات فسق ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہونا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان جتلاتے ہوئے فرماتا ہے: آج ناامید ہوگئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تمھارے دین سے پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ ہی سے۔ آج مکمل کر دیا میں نے تمھارے لیے تمھارا دین اور پوری کر دی تم پر اپنی نعمت اور پسند کر لیا تمھارے لیے اسلام کو بطور دین کے۔ پس جو لاچار ہو جائے بھوک میں نہ مائل ہونے والا ہو گناہ پر تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے(3) [3] وہ دن جس کی طرف آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ عرفہ کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل فرمایا، اپنے بندے اور رسولe کی مدد کی اور اہل شرک پوری طرح بے یارو مددگار ہو گئے، حالانکہ وہ اس سے پہلے اہل ایمان کو ان کے دین سے پھیرنے کی بہت خواہش رکھتے تھے۔ جب انھوں نے اسلام کا غلبہ، اس کی فتح اور بالادستی دیکھی تو اہل ایمان کو دین سے پھیرنے سے پوری طرح مایوس ہو گئے اور اب ان کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ وہ اہل ایمان سے خوف کھانے لگے۔ بنابریں ، اس سال یعنی ۱۰ ھ میں جب رسول اللہe نے آخری حج کیا تو اس حج میں کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور نہ کسی نے عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس لیے فرمایا: ﴿ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ﴾ ’’تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی مشرکین سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے مشرکین کے مقابلے میں تمھاری مدد فرمائی اور ان کو تنہا چھوڑ دیا اور ان کے مکرو فریب اور ان کی سازشیں ان کے سینوں ہی میں لوٹا دیں ۔ ﴿ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَؔكُمْ ﴾ ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا‘‘ یعنی اپنی نصرت کا اتمام کر کے اور ظاہری و باطنی طور پر اور اصول و فروع میں شریعت کی تکمیل فرما کر۔ اسی لیے احکام دین، یعنی اس کے تمام اصول و فروع میں کتاب و سنت کافی ہیں ۔ اگر تکلف کا شکار کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگ عقائد اور احکام دین کی معرفت کے لیے کتاب و سنت کے علم کے علاوہ دیگر علوم ، مثلاً: علم کلام وغیرہ کے محتاج ہیں تو وہ جاہل اور اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے گویا وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ دین کی تکمیل اس کے اقوال اور ان نظریات کے ذریعے سے ہوئی ہے جس کی طرف وہ دعوت دیتا ہے اور یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe کو جاہل قرار دینا ہے۔ ﴿ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ ﴾ ’’میں نے تم پر اپنی (ظاہری اور باطنی) نعمت پوری کر دی ﴿ وَرَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾ ’’اور میں نے تمھارے لیے اسلام کو دین کے طورپر پسند کرلیا۔‘‘ یعنی میں نے اسلام کو تمھارے لیے دین کے طور پر اور تمھیں اسلام کے لیے چن لیا ہے۔ اب اپنے رب کی شکر گزاری کے لیے اس دین کو قائم کرو اور اس ہستی کی حمد و ستائش کرو جس نے تمھیں بہترین، عالی شان اور کامل ترین دین سے نواز کر تم پر احسان فرمایا۔ ﴿ فَ٘مَنِ اضْطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جسے ضرورت ان محرمات میں سے کچھ کھانے پر مجبور کر دے جن کا ذکر ﴿ حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ﴾کے تحت گزر چکا ہے ﴿ فِیْ مَخْمَصَةٍ ﴾ ’’بھوک کی وجہ سے‘‘ یعنی اگر وہ سخت بھوکا ہو ﴿ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ﴾ ’’ گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔‘‘ بایں طور کہ وہ ان محرمات کو اس وقت تک نہ کھائے جب تک کہ وہ اضطراری حالت میں نہ ہو اور ضرورت سے بڑھ کر نہ کھائے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ غَ٘فُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے کہ اس نے بندے کے لیے اس اضطراری حال میں محرمات کو کھانا جائز قرار دے دیا۔ اور اس کی نیت کے مطابق اور دین میں کوئی نقص لاحق کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرمایا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید