المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 34

    إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا۟ عَلَيْهِمْ ۖ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو[1] تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] یعنی گرفتار ہونے سے پہلے اگر وہ توبہ کرکے اسلامی حکومت کی اطاعت کا اعلان کردیں تو پھر انہیں معاف کردیا جائے گا، مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ لیکن پھر اس امر میں اختلاف ہےکہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ ا نہوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا آبروریزی کرکے بندوں، پر جو دست درازی کی یہ جرائم بھی معاف ہوجائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا، بعض علماء کے نزدیک یہ معاف نہیں ہوں گے بلکہ ان کا قصاص لیا جائے گا۔ امام شوکانی اور امام ابن کثیر کا رحجان اس طرف ہے کہ مطلقاً انہیں معاف کردیا جائے گا اور اسی کو ظاہر آیت کا مقتضی بتلایا ہے۔ البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے۔ وہ مستحق سزا ہوں گے۔ (فتح القدیر وابن کثیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 34 کی تفسیر

    [34] ﴿ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ ﴾ ’’ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشترکہ تمھارے قابو آجائیں توبہ کرلی۔‘‘ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کر لیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ ﴿ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَ٘فُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلاوطنی وغیرہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پا لینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں ، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہو گی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے۔ اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی توبہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 34 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید