المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 41

    ۞ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَـٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِأَفْوَٰهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ ۛ سَمَّـٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّـٰعُونَ لِقَوْمٍ ءَاخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ مِنۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهِۦ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَٱحْذَرُوا۟ ۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتْنَتَهُۥ فَلَن تَمْلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمْ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌ ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

    اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کُڑھیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں خواه وه ان (منافقوں) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقتاً ان کے دل باایمان نہیں[1] اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے، وه کلمات کے اصلی موقعہ کو چھوڑ کر انہیں متغیر کردیا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر تم یہی حکم دیئے جاؤ تو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ دیئے جاؤ تو الگ تھلگ[2] رہنا اور جس کا خراب کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لئے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اراده ان کے دلوں کو پاک کرنے کا نہیں، ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی ذلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے بڑی سخت سزا ہے۔

    حواشی

    [1] نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو اہل کفر وشرک کے ایمان نہ لانے اور ہدایت کا راستہ نہ اپنانے پر جو قلق اور افسوس ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو زیادہ غم نہ کرنے کی ہدایت فرما رہا ہے تاکہ اس اعتبار سے آپ کو تسلی رہے کہ ایسے لوگوں کی بابت عنداللہ مجھ سے باز پرس نہیں ہوگی۔ [2] آیت نمبر 41 تا 44 کی شان نزول میں دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔ ایک تو دو شادی شدہ یہودی زانیوں (مرد وعورت) کا۔ انہوں نے اپنی کتاب تورات میں تو ردوبدل کر ڈالا تھا، علاوہ ازیں اس کی کئی باتوں پر عمل بھی نہیں کرتے تھے۔ ان ہی میں سے ایک حکم رجم بھی تھا جو ان کی کتاب میں شادی شدہ زانیوں کے لئے تھا اور اب بھی موجود ہے لیکن وہ چونکہ اس سزا سے بچنا چاہتے تھے اس لئے آپس میں فیصلہ کیا کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کے پاس چلتے ہیں اگر انہوں نے ہمارے ایجاد کردہ طریقہ کے مطابق کوڑے مارنے اور منہ کالا کرنے کی سزا کا فیصلہ کیا تو مان لیں گے اور اگر رجم کا فیصلہ دیا تو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ یہودی نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کی بابت کیا ہے؟ انہوں نے کہا تورات میں زنا کی سزا کوڑے مارنا اور رسوا کرنا ہے۔ عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو، تورات میں رجم کا حکم موجود ہے، جاؤ تورات لاؤ، تورات لا کر وہ پڑھنے لگے تو آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی آیات پڑھ دیں۔ عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) نے کہا ہاتھ اٹھاؤ، ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم تھی۔ بالآخر انہیں اعتراف کرنا پڑا کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) سچ کہتے ہیں، تورات میں آیت رجم موجود ہے۔ چنانچہ دونوں زانیوں کو سنگسار کردیا گیا۔ (ملاحظہ ہو صحیحین ودیگر کتب حدیث) ایک دوسرا واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ یہود کا ایک قبیلہ اپنے آپ کو دوسرے یہودی قبیلے سے زیادہ معزز اور محترم سمجھتا تھا اور اسی کے مطابق اپنے مقتول کی دیت سو وسق اور دوسرے قبیلے کے مقتول کی پچاس وسق مقرر کر رکھی تھی۔ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) مدینہ تشریف لائے، تو یہود کے دوسرے قبیلے کو کچھ حوصلہ ہوا جس کے مقتول کی دیت نصف تھی اور اس نے دیت سو وسق دینے سے انکار کردیا۔ قریب تھا کہ ان کے درمیان اس مسئلے پر لڑائی چھڑ جاتی، لیکن ان کے سمجھدار لوگ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے فیصلہ کرانے پر رضا مند ہوگئے اس موقعے پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں سے ایک آیت میں قصاص میں برابری کا حکم دیا گیا ہے۔ (یہ روایت مسند احمد میں ہے جس کی سند کو شیخ احمد شاکر نے صحیح کہا ہے۔ مسند احمد جلد 1، ص246۔ حدیث نمبر۔2212 ) امام ابن کثیر فرماتے ہیں ممکن ہے دونوں سبب ایک ہی وقت میں جمع ہوگئے ہوں اور ان سب کے لئے ان آیات کا نزول ہوا ہو۔ (ابن کثیر )

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 41 کی تفسیر

    [41] رسول اللہe مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپe کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُ٘لُوْبُهُمْ ﴾ ’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔ ﴿ وَمِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰؔعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَ٘اْتُوْكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمْ یَ٘اْتُوْكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰؔذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (e) تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ ﴿ وَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَ٘نْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ﴾ (القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُ٘لُوْبَهُمْ ﴾ ’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔ ﴿ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 41 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید