ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت ونور ہے، یہودیوں میں[1] اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام)[2] اور اہل اللہ اور علما فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاﻇت کا حکم دیا گیا تھا[3]۔ اور وه اس پر اقراری گواه تھے[4] اب تمہیں چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو[5]، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وه (پورے اور پختہ) کافر ہیں۔[6]
حواشی
[1] ”لِلَّذِينَ هَادُوا“ اس کا تعلق ”يَحْكُمْ“ سے ہے۔ یعنی یہودیوں سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔
[2] ”أَسْلَمُوا“ یہ ”نَبِيِّينَ“ کی صفت بیان کی کہ وہ سارے انبیاء دین اسلام ہی کے پیروکار تھے جس کی طرف محمد (صلى الله عليه وسلم) دعوت دے رہے ہیں۔ یعنی تمام پیغمبروں کا دین ایک ہی رہا ہے۔ اسلام جس کی بنیادی دعوت یہ تھی کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ ہر نبی نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہی دعوت توحید واخلاص پیش کی «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ» (الأنبياء: 25) ”ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، پس تم سب میری ہی عبادت کرو“۔ اسی کو قرآن میں الدين بھی کہا گیا ہے۔ جیسا کہ سورۂ شوریٰ کی آیت 13 «شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا» الآية میں کہا گیا ہے، جس میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے لئے ہم نے وہی دین مقرر کیا ہے جو آپ سے قبل دیگر انبیاء کے لئے کیا تھا۔
[3] چنانچہ انہوں نے تورات میں کوئی تغیر وتبدل نہیں کیا، جس طرح بعد میں لوگوں نے کیا۔
[4] کہ یہ کتاب کمی بیشی سے محفوظ ہے اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
[5] یعنی لوگوں سے ڈر کر تورات کے اصل احکام پر پردہ مت ڈالو، نہ دنیا کے تھوڑے سے مفادات کے لئے ان میں رد و بدل کرو۔
[6] پھر تم کیسے ایمان کے بدلے کفر پر راضی ہوگئے ہو؟
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 44 کی تفسیر
[44] ﴿ اِنَّـاۤ٘ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِیْهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوْرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰؔى وَهٰرُوْنَ الْ٘فُرْقَانَ وَضِیَآءً وَّذِكْرًا لِّلْ٘مُتَّقِیْنَ﴾ (الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿یَحْكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا ﴾ ’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔
جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیe پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔
﴿ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔
ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسْتُحْفِظُ٘وْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا﴾ ’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔
اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔
﴿ وَمَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْ٘كٰفِرُوْنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔