المائدة
مائدہ
محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل
پڑھنے کی ترتیبات
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 6
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغْسِلُوا۟ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ وَٱمْسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَٱطَّهَّرُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَـٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءً فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًا طَيِّبًا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو[1] اپنے سروں کا مسح کرو[2] اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو[3]، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو[4]، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو[5] اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا[6] بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے[7]، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔
حواشی
[1] منہ دھوؤ یعنی ایک ایک، دو دو یا تین تین مرتبہ دونوں ہتھیلیاں دھونے، کلی کرنے، ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کے بعد۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ منہ دھونے کے بعد ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے۔ [2] مسح پورے سر کا کیا جائے، جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے، اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے گدی تک لے جائے اور پھر وہاں سے آگے کو لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اسی کے ساتھ کانوﮞ کا مسح کرلے۔ اگر سر پر پگڑی یا عمامہ ہو تو حدیث کی رو سے موزوں کی طرح اس پر بھی مسح جائز ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ) علاوہ ازیں ایک مرتبہ ہی اس طرح مسح کرلینا کافی ہے۔ [3] ”أَرْجُلَكُمْ“ کا عطف ”وُجُوهَكُمْ“ پر ہے یعنی اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ! اور اگر موزے یا جرابیں پہنی ہوئی ہیں (بشرطیکہ وضو کی حالت میں پہنی ہوں) تو حدیث کی رو سے پیر دھونے کی بجائے جرابوں پر مسح بھی جائز ہے۔ ملحوظة: (1) اگر پہلے سے باوضو ہو تو نیا وضو کرنا ضروری نہیں۔ تاہم ہر نماز کے لئے تازہ وضو بہتر ہے۔ (2) وضو سے پہلے نیت فرض ہے۔ (3) وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنی بھی ضروری ہے۔ (4) داڑھی گھنی ہو تو اس کا خلال کیا جائے۔ (5) اعضا کو ترتیب وار دھویا جائے۔ (6) ”ان کے درمیان فاصلہ نہ کیا جائے“ یعنی ایک عضو دھونے کے بعد دوسرے عضو کے دھونے میں دیر نہ کی جائے۔ بلکہ سب اعضا تسلسل کے ساتھ یکے بعد دیگرے دھوئے جائیں۔ (7) اعضائے وضو میں سے کسی بھی عضو کا کوئی حصہ خشک نہ رہے، ورنہ وضو نہیں ہوگا۔ (8) کوئی عضو بھی تین مرتبہ سے زیادہ نہ دھویا جائے۔ ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، فتح القدیر وایسر التفاسیر ) [4] جنابت سے مراد وہ ناپاکی ہے جو احتلام یا بیوی سے ہم بستری کرنے کی وجہ سے لاحق ہوجاتی ہے اور اسی حکم میں حیض اور نفاس بھی داخل ہے۔ جب حیض یا نفاس کا خون بند ہوجائے تو پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے طہارت یعنی غسل ضروری ہے۔ البتہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ (فتح القدیر وایسر التفاسیر ) [5] اس کی مختصر تشریح اور تیمم کا طریقہ سورۃ النساء کی آیت نمبر 43میں گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری میں اس کی شان نزول کی بابت آتا ہے کہ ایک سفر میں بیداء کے مقام پر حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا ہار گم ہوگیا جس کی وجہ سے وہاں رکنا یا رکے رہنا پڑا۔ صبح کی نماز کے لئے لوگوں کے پاس پانی نہ تھا اور تلاش ہوئی تو پانی دستیاب بھی نہیں ہوا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں تیمم کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت اسید بن حضیر (رضي الله عنه) نے آیت سن کر کہا ”اے آل ابی بکر! تمہاری وجہ سے اللہ نے لوگوں کے لئے برکتیں نازل فرمائی ہیں اور یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔“ (تم لوگوں کے لئے سراپا برکت ہو۔) (صحیح بخاری۔ سورۃ المائدۃ) [6] اسی لئے تیمم کی اجازت مرحمت فرما دی ہے۔ [7] اسی لئے حدیث میں وضو کرنے کے بعد دعا کرنے کی ترغیب ہے۔ دعاؤں کی کتابوں سے یہ دعا یاد کرلی جائے۔
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 6 کی تفسیر
[6] یہ آیت عظیمہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ان کو بیان کرنے کی جتنی آسانی عطا فرمائی ہم ان کو بیان کریں گے۔ (۱) جو کچھ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے ان پر عمل کرنا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس طرح صادر ہوتا ہے ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا …﴾ یعنی اے ایمان والے لوگو! اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق ان امور پر عمل کرو جو ہم نے تمھارے لیے مشروع کیے ہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰ٘وةِ ﴾ ’’جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو۔‘‘ سے نماز کو قائم کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ (۳) اس میں نماز کے لیے نیت کے حکم کا اثبات ہے فرمایا: ﴿اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰ٘وةِ ﴾یعنی جب تم نماز کی نیت اور ارادے سے اٹھو۔ (۴) نماز کی صحت کے لیے طہارت شرط ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کے لیے اٹھتے وقت طہارت کا حکم دیا ہے اور اصولی طور پر حکم (امر) وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ (۵) طہارت نماز کا وقت داخل ہونے پر واجب نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب نماز پڑھنے کا ارادہ کیا جائے۔ (۶) ہر وہ نماز جس پر (الصلوۃ) کا اطلاق کیا جائے، مثلاً: فرض، نفل، فرض کفایہ اور نماز جنازہ وغیرہ ہر قسم کی نماز کے لیے طہارت فرض ہے حتیٰ کہ بہت سے اہل علم کے نزدیک مجرد سجدہ ، مثلاً: سجدۂ تلاوت اور سجدہ شکر کے لیے بھی طہارت ضروری ہے۔ (۷) اس میں چہرے کے دھونے کا حکم ہے اور چہرے میں چہرے کا صرف سامنے کا حصہ شامل ہے یعنی سر کے بالوں کی حدود سے لے کر طول میں جبڑوں کے نیچے اور ٹھوڑی تک۔ اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چہرے کے دھونے میں شامل ہے۔ اور یہ سنت ہے۔ چہرے پہ اگے ہوئے بال بھی چہرے میں داخل ہیں ۔ اگر یہ زیادہ گھنے نہیں تو تمام جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو اوپر سے دھونا کافی ہے۔ (داڑھی کے بالوں میں خلال کرنا نبیe کے عمل سے ثابت ہے، جامع الترمذي، الطہارۃ، باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ، حدیث: 31، اس لیے گھنی داڑھی میں بالخصوص خلال بھی کیا جائے۔ (ص۔ی) (۸) اس میں ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے اور ہاتھوں کی حد کہنیوں تک ہے۔ جمہور مفسرین کے مطابق (اِلٰی) (مع) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ﴾ (النساء: 4؍2) ’’ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ (ملا کر) نہ کھاؤ۔‘‘نیز ہاتھ دھونے کا وجوب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ کہنیوں کو پوری طرح نہ دھویا جائے۔ (۹) سر پر مسح کرنے کا حکم ہے۔ (۱۰)پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ کیونکہ (با) تَبْعِیض کے لیے نہیں بلکہ اِلْصَاق کے لیے ہے۔ اور یہ تمام تر سر کے مسح کو شامل ہے۔ (۱۱) سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے کیا جائے یا ایک ہاتھ سے، کسی کپڑے سے کیا جائے یا لکڑی وغیرہ سے، جیسے بھی کیا جائے اکتفا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسح کا علی الاطلاق حکم دیا ہے کسی وصف سے مقید نہیں کیا۔ پس یہ چیز مسح کے اطلاق پر دلالت کرتی ہے۔ (۱۲)وضو میں سر پر مسح کرنا فرض ہے۔ اگر ہاتھوں کے ساتھ سر پر مسح کرنے کی بجائے سر کو دھو لیا جائے۔ تو یہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ اس نے وہ کام نہیں کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ (۱۳)(وضو میں ) دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا حکم بھی وہی ہے جو ہاتھوں کے بارے میں ہے۔ (۱۴)اس میں ، نَصَب کے ساتھ جمہور کی قراء ت کے مطابق، روافض کا رد ہے۔ اور جب تک پاؤں ننگے ہیں ، ان پر مسح کرنا جائز نہیں ۔ (۱۵)’’وَاَرْجُلِکُمْ‘‘ میں جر کے ساتھ قراء ت کے مطابق موزوں پر مسح کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں قراء توں کو اپنے اپنے معنی پر محمول کیا جائے گا۔ اگر پاؤں میں موزے نہ پہنے ہوں تو نصب کے ساتھ قراء ت کے مطابق پاؤں دھوئے جائیں ۔ اور اگر پاؤں میں موزے پہنے ہوئے ہیں تو جر کے ساتھ قراء ت کے مطابق پاؤں پر مسح کیا جائے گا۔ (۱۶) وضو کے اندر اعضا کو ترتیب کے ساتھ دھونے کا حکم ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ نیز جب دو دھوئے جانے والے اعضا کے درمیان مسح والے عضو کا ذکر کیا جائے تو اس کا ترتیب کے سوا کوئی اور فائدہ نہیں ۔ (۱۷)ترتیب صرف ان چار اعضا کے ساتھ مخصوص ہے جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ رہا کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے، منہ دھونے، دایاں بازو اور بایاں بازو، دایاں پاؤں اور بایاں پاؤں دھونے میں ترتیب کا اعتبار تو یہ واجب نہیں ، البتہ منہ دھونے سے پہلے کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا مستحب ہے۔ دایاں ہاتھ پہلے دھونا مستحب ہے۔ اسی طرح دایاں پاؤں پہلے دھونا مستحب ہے۔ کانوں کے مسح سے پہلے سر کا مسح کرنا مستحب ہے۔ (۱۸)ہر نماز کے وقت تجدید وضو کا حکم ہے تاکہ مامور بہ پر عمل کیا جا سکے۔(یہ بہتر صورت ہے، ورنہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہے‘ بشرطیکہ وضو برقرار ہو۔فتح مکہ کے دن رسول اللہe نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں اور فرمایا کہ یہ میں نے عمداً کیاہے، تاکہ لوگوں کو اس کا جواز معلوم ہوجائے ،صحیح مسلم، الطہارۃ، باب جواز الصلوات کلہا بوضوء واحد، حدیث: 277۔ (ص۔ى) (۱۹) جنابت کی حالت میں غسل کا حکم دیا گیا ہے۔ (۲۰)غسل جنابت میں تمام بدن کا دھونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کو بدن کے کسی ایک حصے کے ساتھ مخصوص کرنے کی بجائے تمام بدن کی طرف مضاف کیا ہے۔ (۲۱)جنابت کی حالت میں بالوں کو اندر اور باہر سے دھونے کا حکم ہے۔ (۲۲)طہارت کے حصول کے وقت حدث اصغر حدث اکبر کے اندر شامل ہوتا ہے۔ حدث اکبر سے طہارت کے حصول کے لیے غسل کرنے سے حدث اصغر سے بھی طہارت حاصل ہو جاتی ہے اس کے لیے اس کی نیت کر لینا کافی ہے، پھر وہ تمام بدن پر پانی بہائے کیونکہ اللہ نے صرف پاکیزگی حاصل کرنے کا ذکر کیا ہے اور وضو لوٹانے کا ذکر نہیں فرمایا۔(لیکن یہ بات اس وقت صحیح ہوگی جب سنت کے مطابق غسل جنابت کیا جائے۔ اور وہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر شرم گاہ کو بائیں ہاتھ سے دھو کر اس ہاتھ کو مٹی یا صابن وغیرہ سے دھویا جائے۔ پھر وضو کیا جائے اور سر پر مسح کرنے کے بجائے تین بار سر پر پانی ڈالا جائے۔ پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کیا جائے۔ پھر آخر میں جگہ بدل کر پیر دھوئے۔ اس طرح غسل جنابت کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ، بشرطیکہ دوران غسل شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگے۔ (ص۔ي) (۲۳)جنبی کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جس سے جاگتے یا سوتے منی خارج ہوئی ہو یا اس نے مجامعت کی ہو خواہ منی کا انزال نہ ہوا ہو۔ (۲۴)جسے یاد آ جائے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر کپڑوں پر منی کے نشانات موجود نہ ہوں تو اس پر غسل واجب نہیں کیونکہ جنابت متحقق نہیں ہوئی۔ (۲۵)اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے تیمم مشروع فرمایا۔ (۲۶)تیمم کے جواز کے اسباب میں سے ایک سبب ایسا مرض ہے جس میں پانی کے استعمال سے ضرر پہنچتا ہو۔ اس صورت میں تیمم جائز ہے۔ نیز تیمم کے جواز کے جملہ اسباب میں سفر، وضو کا ٹوٹنا اور پانی کا موجود نہ ہونا شامل ہیں ۔ پس پانی موجود ہونے کے باوجود مرض بھی تیمم کو جائز کر دیتا ہے کیونکہ وضو سے ضرر کا اندیشہ ہے... اور باقی صورتوں میں پانی کا معدوم ہونا تیمم کا جواز فراہم کرتا ہے۔ خواہ انسان اپنے گھر میں ہی ہو۔ (۲۷)پیشاب اور پاخانہ کے راستوں میں سے کوئی چیز باہر نکلے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (۲۸)وہ اہل علم جو اس بات کے قائل ہیں کہ ان دو امور کے سوا کسی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا، وہ یہیں سے استدلال کرتے ہیں ان کے نزدیک فرج وغیرہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (۲۹)جس فعل کے لیے صریح لفظ برا اور نامناسب لگتا ہو اس کے لیے کنایہ استعمال کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَوْ جَآءَؔ اَحَدٌ مِّؔنْكُمْ مِّنَ الْغَآىِٕطِ ﴾ ’’یا تم میں سے کوئی بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو۔‘‘ (۳۰) لذت اور شہوت سے عورت کے بدن کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(فاضل مفسر رحمہ اللہ نے غالباً لمس کو لغوی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں لے کر یہ بات کہی ہے، جیسا کہ لمس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے۔ اور دوسری تفسیر لمس کی۔ جماع۔ کی گئی ہے۔ اس تفسیر کی رو سے محض عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں اگر چھونے سے مذی یا منی کا اخراج ہوگیا تو مذی کی صورت میں ذکر (آلۂ تناسل) کو دھو کر وضو کرنا اور منی کی صورت میں غسل کرنا ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر چاہے لذت و شہوت سے چھوئے، حتیٰ کہ بوسہ بھی لے لے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (دیکھیے، الاحادیث الضعیفۃ للالباني، رقم: 1000)(ص۔ي) (۳۱) تیمم کی صحت پانی کے عدم وجود سے مشروط ہے۔ (۳۲) پانی کے وجود کے ساتھ ہی، خواہ انسان نماز کے اندر ہی کیوں نہ ہو، تیمم باطل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانی کی عدم موجودگی میں تیمم کو مباح فرمایا ہے۔ (یہ بھی بعض ائمہ کی رائے ہے۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ نماز شروع کردینے کے بعد نماز کے توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ نماز پوری پڑھ لے۔ اس لیے کہ جس وقت اس نے نماز شروع کی تھی تو وہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرکے شروع کی تھی اور اس کا ایسا کرنا شریعت کے مطابق تھا، اس لیے اس کی نماز صحیح ہوگی۔ کیونکہ یہ تیمم نماز کے ختم ہونے تک باطل نہیں ہوگا۔ (ص۔ي) (۳۳)جب نماز کا وقت داخل ہو جائے اور انسان کے پاس پانی موجود نہ ہو تو اس پر اپنے پڑاؤ اور ارد گرد نزدیک کے علاقہ میں پانی تلاش کرنا لازم ہے۔ کیونکہ جس کسی نے پانی کو تلاش ہی نہ کیا ہو تو اس کے لیے (لَمْ یَجِدْ) ’’اس نے پانی نہ پایا‘‘ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔ (۳۴) اگر تلاش کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو پورے وضو کے لیے کافی نہ ہو تو اس پر اس پانی کا استعمال لازم ہے۔ اس کے بعد تیمم کر لے۔ (۳۵) پاک اشیا ءکی وجہ سے متغیر پانی، تیمم پر مقدم ہے، یعنی یہ پانی طاہر پانی شمار ہو گا کیونکہ متغیر پانی بھی پانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءًؔ ﴾ کے حکم میں آئے گا۔ (۳۶) تیمم میں نیت بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَتَیَمَّمُوْا ﴾ یعنی قصد کرو۔ (۳۷) تیمم کے لیے سطح زمین پر پڑی ہوئی گرد وغیرہ کافی ہوتی ہے تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَیْدِیْكُمْ ﴾ یا تو تغلیب کے باب سے ہے اور غالب طور پر اس کے لیے غبار کا ہونا ضروری ہے جس سے مسح کیا جائے اور جو چہرے اور ہاتھوں کے ساتھ لگ جائے یا یہ افضل کی طرف راہنمائی ہے، یعنی جب ایسی مٹی کا حصول ممکن ہو جس میں غبار شامل ہو تو وہ افضل ہے۔ (۳۸) نجس مٹی سے تیمم نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ پاک نہیں بلکہ ناپاک ہے۔ (۳۹) تیمم میں تمام اعضا کی بجائے صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا کافی ہے۔ (۴۰) اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿بِوُجُوْهِكُمْ ﴾ تمام چہرے کو شامل ہے اور تمام چہرے کا مسح واجب ہے، البتہ اس سے منہ اور ناک کے اندر مٹی داخل کرنا اور بالوں کی جڑوں تک مسح کرنا مستثنی ہے۔ (۴۱) ہاتھوں کا مسح صرف ہاتھ اور کلائی کے جوڑ تک ہے کیونکہ ہاتھ کا اطلاق صرف گٹے تک ہے۔ اگر کہنیوں تک ہاتھوں پر مسح تیمم کے لیے شرط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس شرط سے مقید فرما دیتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وضو میں مقید فرمایا ہے۔ (۴۲) حدث (ناپاکی) خواہ اکبر ہو یا اصغر، ہر قسم کی ناپاکی میں تیمم جائز ہے بلکہ اگر جسم پر نجاست بھی لگی ہو، تب بھی تیمم جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کے ذریعے سے طہارت کو پانی کے ذریعے سے طہارت کا بدل بنایا ہے اور آیت کریمہ کے اطلاق کو کسی چیز سے مقید نہیں فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بدن کی نجاست، تیمم کے حکم میں داخل نہیں ۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق حدث اکبر اور حدث اصغر کے بارے میں ہے اور یہ جمہور علماء کا مذہب ہے۔ (۴۳)حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں میں تیمم کا محل ایک ہی ہے یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا۔ (۴۴) وہ شخص جسے حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں لاحق ہیں اگر تیمم کرتے وقت دونوں سے طہارت کی نیت کر لے تو تیمم ہو جائے گا۔ آیت کریمہ کا عموم اور اطلاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (۴۵) تیمم میں مسح ہاتھ سے یا کسی اور چیز سے جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (فَامْسَحُوا) میں صرف مسح کا حکم دیا ہے اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس چیز کے ساتھ مسح کیا جائے۔ اس لیے ہر چیز کے ساتھ مسح جائز ہے۔ (۴۶) تیمم میں بھی ترتیب اسی طرح شرط ہے جس طرح وضو میں شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں کے مسح سے قبل چہرے کا مسح کرنے سے ابتدا کی ہے۔ (۴۷) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے جو احکام مشروع فرمائے ہیں ان میں ہمارے لیے کوئی حرج، کوئی مشقت اور کوئی تنگی نہیں رکھی۔ یہ اس کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے تاکہ وہ ان کو پاک کرے اور ان پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ (۴۸) پانی اور مٹی کے ذریعے سے ظاہری بدن کی طہارت توحید اور خالص توبہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والی باطنی طہارت کی تکمیل ہے۔ (۴۹) تیمم کی طہارت میں اگرچہ وہ نظافت اور طہارت نہیں ہوتی جس کا حس اور مشاہدہ کے ذریعے سے ادراک ہو سکتا ہو ،تاہم اس میں معنوی طہارت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے پیدا ہوتی ہے۔ (۵۰) بندے کے لیے مناسب ہے کہ وہ طہارت اور دیگر شرعی احکام میں پوشیدہ اسرار و حکمت میں تدبر کرے تاکہ اس کے علم و معرفت میں اضافہ ہو۔ اور اس کی شکر گزاری اور محبت زیادہ ہو۔ ان احکام پر جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر بندہ بلند مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔
آیت کے اختیارات