المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 72

    لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

    بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے[1] حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے[2]، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔[3]

    حواشی

    [1] یہی مضمون آیت نمبر 17 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اہل کتاب کی گمراہیوں کے ذکر میں اس کا پھر ذکر فرمایا۔ اس میں ان کے اس فرقے کے کفر کا اظہار ہے جو حضرت مسیح (عليه السلام) کے عین اللہ ہونے کا قائل ہے۔ [2] چنانچہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) یعنی مسیح ابن مریم علیہما السلام نے عالم شیرخوارگی میں (اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب کہ بچے اس عمر میں قوت گویائی نہیں رکھتے) سب سے پہلے اپنی زبان سے اپنی عبودیت ہی کا اظہار فرمایا: «إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا» (سورة مريم: 30) ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، مجھے اس نے کتاب بھی عطا کی ہے“۔) حضرت مسیح (عليه السلام) نے یہ نہیں کہا، میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں۔ صرف یہ کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اور عمر کہولت میں بھی انہوں نے یہی دعوت دی «إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ» ( آل عمران: 51) یہ وہی الفاظ ہیں جو ماں کی گود میں بھی کہے تھے (ملاحظہ ہو سورۂ مریم: 36) اور جب قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہوگا، جس کی خبر صحیح احادیث میں دی گئی ہے اور جس پر اہل سنت کا اجماع ہے، تب بھی وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت کی طرف ہی بلائیں گے، نہ کہ اپنی عبادت کی طرف۔ [3] حضرت مسیح (عليه السلام) نے اپنی بندگی اور رسالت کا اظہار اللہ کے حکم اور مشیت سے اس وقت بھی فرمایا تھا جب وہ ماں کی گود میں یعنی شیرخوارگی کی حالت میں تھے۔ پھر سن کہولت میں یہ اعلان فرمایا۔ اور ساتھ ہی شرک کی شناعت وقباحت بھی بیان فرما دی کہ مشرک پر جنت حرام ہے اور اس کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا جو اسے جہنم سے نکال لائے، جیسا کہ مشرکین سمجھتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 72 کی تفسیر

    [72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْ٘مَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّكُمْ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنْ یُّ٘شْ٘رِكْ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 72 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید