المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 76

    قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

    آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے۔[1]

    حواشی

    [1] یہ مشرکوں کی کم عقلی کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ایسوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، بلکہ نفع نقصان پہنچانا تو کجا، وہ تو کسی کی بات سننے اور کسی کا حال جاننے کی ہی قدرت نہیں رکھتے۔ یہ قدرت صرف اللہ ہی کے اندر ہے۔ اس لئے حاجت روا مشکل کشا بھی صرف وہی ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 76 کی تفسیر

    [76] ﴿ قُ٘لْ ﴾ یعنی اے رسولe ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ﴾ کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں ﴿ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا﴾ ’’جو تمھارے لیے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے‘‘ اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ ﴾ ’’اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے ﴿ الْعَلِیْمُ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی مالک ہے، وہی عبادت کی تمام انواع اور خالص اطاعت کی مستحق ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 76 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید