المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 78

    لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

    بنی اسرائیل کے کافروں پر (حضرت) داؤد (علیہ السلام) اور (حضرت) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی[1] اس وجہ سے کہ وه نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔[2]

    حواشی

    [1] یعنی زبور میں جو حضرت داود (عليه السلام) پر اور انجیل میں جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) پر نازل ہوئی اور اب یہی لعنت قرآن کریم کے ذریعے سے ان پر کی جا رہی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) پر نازل ہوا۔ لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت اور خیر سے دوری ہے۔ [2] یہ لعنت کے اسباب ہیں:۔ 1۔ عصیان، یعنی واجبات کا ترک اور محرمات کا ارتکاب کرکے۔ انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی۔ 2۔ اور اعْتِدَاءٌ یعنی دین میں غلو اور بدعات ایجاد کرکے انہوں نے حد سے تجاوز کیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 78 کی تفسیر

    [78] ﴿ لُ٘عِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا یَعْتَدُوْنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 78 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید