المائدة

مائدہ

120 آیاتمدنیپارہ 6

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 88

    وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَـٰلًا طَيِّبًا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

    اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 88 کی تفسیر

    [88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوْا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰ٘لًا﴾ ’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ (التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 88 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانعامالأنعام

غلطی کی اطلاع دیں

مزید