ق

ق

45 آیاتمکیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 22

    لَّقَدْ كُنتَ فِى غَفْلَةٍ مِّنْ هَـٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ ٱلْيَوْمَ حَدِيدٌ

    یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پرده ہٹا دیا پس آج تیری نگاه بہت تیز ہے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 22 کی تفسیر

    [22] یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اس کا اہتمام کرے۔مگر اکثر لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس لیے فرمایا: ﴿ لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰؔذَا﴾ ’’اس سے تو غافل ہورہا تھا۔‘‘ یہ بات قیامت کے روز روگردانی کرنے والے اور انبیاء و رسل کو جھٹلانے والے کو زجر و توبیخ، ملامت اور عتاب کے طور پر کہی جائے گی۔ یعنی تو اس دن کو جھٹلایا کرتا تھا اور اس دن کے لیے عمل نہ کرتا تھا، پس اب ﴿ فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ﴾ ’’ہم نے تجھ سے پردہ ہٹا دیا‘‘ جس نے تیرے دل کو ڈھانپ رکھا تھا جس کی بنا پر تو کثرت سے سوتا تھا اور اپنی روگردانی پر جما ہوا تھا۔ ﴿ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ﴾ ’’پس آج تیری نگاہ تیز ہے۔‘‘ وہ مختلف قسم کے عذاب اور سزاؤ ں کو دیکھتا ہے جو اسے ڈرا رہی ہوں گی اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی ہوں گی ۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے سے خطاب ہے، کیونکہ دنیا میں وہ ان فرائض سے غافل تھا جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا تھا مگر قیامت کے روز وہ بیدار ہو گا، اس کی غفلت دور ہو جائے گی اور یہ سب ایسے وقت میں ہو گا جب کوتاہی کا تدارک اور ناکامی کی تلافی ممکن نہ ہو گی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عظیم دن کو اہل تکذیب کے ساتھ سلوک کے ذکر کے ذریعے سے، بندوں کے لیے تخویف اور ترہیب ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتذاریاتالذاريات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید