ق

ق

45 آیاتمکیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    ۞ قَالَ قَرِينُهُۥ رَبَّنَا مَآ أَطْغَيْتُهُۥ وَلَـٰكِن كَانَ فِى ضَلَـٰلٍۭ بَعِيدٍ

    اس کا ہمنشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراه نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا.[1]

    حواشی

    [1] اس لئے اس نے فوراً میری بات مان لی، اگر یہ تیرا مخلص بندہ ہوتا تو میرے بہکاوﮮ میں ہی نہ آتا یہاں قَرِينٌ (ساتھی) سے مراد شیطان ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 27 کی تفسیر

    [27] ﴿ قَالَ قَ٘رِیْنُهٗ ﴾ اس کا شیطان ساتھی اس سے بری ٔالذمہ ہوتے ہوئے اور اس کے گناہ کا اسی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہے گا: ﴿ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا‘‘ کیونکہ مجھے اس پر کوئی اختیار تھا نہ میرے پاس کوئی دلیل و برہان تھی’’بلکہ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا، وہ خود ہی اپنے اختیار سے گمراہ ہو کر حق سے دور ہو گیا۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الشَّ٘یْطٰنُ لَمَّا قُ٘ضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ۠ ﴾ (ابراہیم:14؍22) ’’جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا: بے شک اللہ نے تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا اور میں نے جو وعدہ تمھارے ساتھ کیا ، میں نے اس کی خلاف ورزی کی ۔ میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، میں نے تمھیں پکارا اور تم نے میری مان لی۔ پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمھارا فریادرس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتذاریاتالذاريات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید