الذاريات

ذاریات

60 آیاتمکیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    فَٱلْمُقَسِّمَـٰتِ أَمْرًا

    پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں.[1]

    حواشی

    [1] مُقَسِّمَاتٌ اس سےمراد وہ فرشتے ہیں جو کاموں کو تقسیم کر لیتے ہیں۔ کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی (قحط سالی وغیرہ) کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بنایا ہے، جیسے فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں یقیناً وہ سچے ہیں اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جس میں انصاف کیا جائے گا۔ یہ ہواؤں کا چلنا، بادلوں کا پانی کو اٹھانا، سمندروں میں کشتیوں اور فرشتوں کا مختلف امور کو سرانجام دینا، قیامت کے وقوع پر دلیل ہے، کیونکہ جو ذات یہ سارےکام کرتی ہے جو بظاہر نہایت مشکل اور اسباب عادیہ کےخلاف ہیں، وہی ذات قیامت والے دن تمام انسانون کو دوبارہ زندہ بھی کر سکتی ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 6 کی تفسیر

    [6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرْوًا﴾ اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔ ﴿ فَالْحٰؔمِلٰ٘تِ وِقْ٘رًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالْجٰرِیٰؔتِ یُسْرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالْمُقَسِّمٰتِ۠ اَمْرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتطورالطور

غلطی کی اطلاع دیں

مزید