الذاريات

ذاریات

60 آیاتمکیپارہ 26

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 50

    فَفِرُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۖ إِنِّى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

    پس تم اللہ کی طرف دوڑ بھاگ (یعنی رجوع) کرو[1] ، یقیناً میں تمہیں اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے واﻻ ہوں.

    حواشی

    [1] یعنی کفر و معصیت سے توبہ کر کے فوراً بارگاہ الٰہی میں جھک جاؤ، اس میں تاخیر مت کرو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 50 کی تفسیر

    [50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔ پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّیْ لَكُمْ مِّؔنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتطورالطور

غلطی کی اطلاع دیں

مزید