الطور

طور

49 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    أَفَسِحْرٌ هَـٰذَآ أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ

    (اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے[1] ؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو.[2]

    حواشی

    [1] جس طرح تم دنیا میں پیغمبروں کو جادوگر کہا کرتے تھے، بتلاؤ ! کیا یہ بھی کوئی جادو کاکرتب ہے؟ [2] یا جس طرح تم دنیا میں حق دیکھنے سے اندھے تھے، یہ عذاب بھی تمہیں نظر نہیں آ رہاہے یہ تقریع وتوبیخ کے لیے انہیں کہا جائے گا، ورنہ ہر چیز ان کے مشاہدےمیں آ چکی ہوگی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 کی تفسیر

    [15] ﴿ اَفَسِحْرٌ هٰؔذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ اَفَسِحْرٌهٰؔذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیe مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنجمالنجم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید