الطور

طور

49 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    يَوْمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوْرًا

    جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا.[1]

    حواشی

    [1] مور کے معنی ہیں حرکت واضطراب۔ قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب وسیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہو گا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کےلیے ظرف ہے۔ یعنی یہ عذاب اس روز واقع ہوگا جب آسمان تھرتھرائے گا اور پہاڑی اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 9 کی تفسیر

    [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا: ﴿یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنجمالنجم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید