النجم

نجم

62 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 12

    أَفَتُمَـٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ

    کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 - 12 کی تفسیر

    [11، 12] ﴿ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ﴾ ’’اس (رسول) نے جو کچھ دیکھا، اس کے دل نے (اس کے متعلق) جھوٹ نہیں بولا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جو بھیجی، اس پر آپ کا قلب مبارک اور آپ کی رؤ یت، آپ کی سماعت اور آپ کی بصارت متفق تھے۔ یہ اس وحی کے کامل ہونے کی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھیجی، نیز یہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ نے وحی کو اس طرح حاصل کیا کہ اس میں کوئی شک شبہ نہ تھا۔ آپ کی آنکھ مبارک نے جو کچھ دیکھا، آپ کے قلب مقدس نے اس کو نہیں جھٹلایا اور نہ اس میں کوئی شک ہی کیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ بڑی بڑی آیات الٰہی ہوں جو اس رات آپ کو دکھائی گئیں جس رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، آپ کو اپنے قلب مبارک اور رؤ یت کے ساتھ، اس کے حق ہونے کا یقین تھا، آیت کریمہ کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد معراج کی رات رسول اللہ e کا اپنے رب کا دیدار اور اس کے ساتھ ہم کلام ہونا ہے، اسے بہت سے علمائے کرام نے اختیار کیا ہے، پھر وہ اسی بنیاد پر رسول اللہ e کے لیے دنیا میں دیدار الٰہی کو ثابت کرتے ہیں۔ مگر پہلا قول صحیح ہے کہ اس سے مراد جبریلu ہیں جیسا کہ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے۔ نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ رسول اللہ e نے جبریل uکو اپنی اصلی شکل میں دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ آسمان دنیا کے نیچے افق اعلیٰ میں جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اور دوسری دفعہ ساتویں آسمان کے اوپر جس رات آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقمرالقمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید