النجم

نجم

62 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 13

    وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ

    اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 13 - 14 کی تفسیر

    [13، 14] ﴿ وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰؔى﴾ یعنی رسول اللہ e نے جبریل uکو دوسری دفعہ اپنی طرف اترتے ہوئے دیکھا ﴿ عِنْدَ سِدْرَةِ الْ٘مُنْ٘تَهٰى﴾ ’’سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔‘‘ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر بیری کا بہت بڑا درخت ہے اور اسے سدرۃ المنتہیٰ اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیز اوپر کی طرف عروج کرتی ہے، اس کے پاس آ کر رک جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی وغیرہ نازل ہوتی ہے یہاں آ کر ٹھہر جاتی ہے۔ یا اس بنا پر اسے سدرۃ المنتہیٰ کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوقات کے علم کی انتہائی حد ہے۔ نیز اس نام سے موسوم کیے جانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے اوپر واقع ہے اور سدرۃ المنتہیٰ اس کی بلندی کی انتہا ہے، اس کے علاوہ بھی کوئی سبب ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔ چنانچہ اس مقام پر جو پاک، خوبصورت اور بلند مرتبہ ارواح کا مقام ہے، جہاں شیطان اور دیگر ارواح خبیثہ نہیں ٹھہر سکتیں، حضرت محمد e نے جبریلu کو دیکھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 13 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقمرالقمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید