النجم

نجم

62 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 17

    مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ

    نہ تو نگاه بہکی نہ حد سے بڑھی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی نبی ﹲ کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ اس حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقرر کر دی گئی تھی۔ (ایسرالتفاسیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 کی تفسیر

    [17] ﴿ مَا زَاغَ الْ٘بَصَرُ﴾ یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کر دائیں بائیں نہیں ہوئی۔ ﴿ وَمَا طَغٰى﴾ اور نہ نگاہ ہی نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا ، یہ رسول اللہ e کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا، آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر ہی انحراف کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ ذیل امور میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے: | بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ | اس میں کوتاہی کرے۔ | اس میں افراط سے کام لے۔ | اس سے قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔ مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی ٔاکرم e کے اندر موجود نہ تھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقمرالقمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید