النجم

نجم

62 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 20

    وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلْأُخْرَىٰٓ

    اور منات تیسرے پچھلے کو.[1]

    حواشی

    [1] یہ مشرکین کی تو بیخ کے لیے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ توشان ہے جومذکور ہوئی کہ جبرائیل (عليه السلام) جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمانوں پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کروایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے۔ لاَتٌ، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لاتَ يَلِيتُ سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑ گیا۔ بعض کہتےہیں کہ، لات میں تامشدد ہے۔ لَتَّ يَلُتُّ سے اسم فاعل (ستو گھولنے والا) یہ ایک نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول گھول کرپلایا کرتا تھا، جب یہ مر گیا تو لوگوں نے اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیا، پھر اس کے مجسمے اور بت بن گئے۔ یہ طائف میں بنو ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا۔ عُزَّى کہتےہیں کہ یہ اللہ کے صفاتی نام عَزِيزٌ سے ماخوذ ہے، اور یہ أَعَزُّ کی تانیث ہے بمعنی عَزِيزَةٍ بعض کہتے ہیں کہ یہ غطفان میں ایک درخت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ شیطاننی (بھوتنی) تھی جوبعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنگ ابیض تھا جس کو پوجتے تھے۔ یہ قریش اور بنو کنانہ کا خاص معبود تھا۔ مَنَاة مَنَى يَمْنِي سے ہے جس کے معنی صَبَّ (بہانے) کے ہیں اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے لوگ کثرت سے اس کے پاس جانور ذبح کرتے اور ان کا خون بہاتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا (فتح القدیر) یہ قدید کے بالمقابل مشلل جگہ میں تھا، بنو خزاعہ کا یہ خاص بت تھا۔ زمانۂ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس بت کا طواف بھی کرتے تھے۔ (ایسر التفاسیر وابن کثیر) ان کے علاوہ مختلف اطراف میں اور بھی بہت سے بت اور بت خانے پھیلے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اور دیگر مواقع پر ان بتوں اور دیگر تمام بتوں کا خاتمہ فرما دیا۔ ان پر جو قبے عمارتیں بنی ہوئی تھیں۔ وہ مسمار کروا دیں، ان درختوں کو کٹوا دیا، جن کی تعظیم کی جاتی تھی اور وہ تمام آثار ومظاہر مٹا ڈالے گئے جو بت پرستی کی یادگار تھے، اس کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد، حضرت علی، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت جریر بن عبداللہ البجلی وغیرھم (رضي الله عنهم) کو، جہاں جہاں یہ بت تھے، بھیجا اور انہوں نے جاکر ان سب کوڈھا کر سرزمین عرب سے شرک کا نام مٹا دیا۔ (ابن کثیر) قرون اولی ٰکے بہت بعد ایک مرتبہ پھر عرب میں شرک کے یہ مظاہر عام ہو گئے تھے۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجدد الدعوۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب کو توفیق دی، انہوں نے درعیہ کے حاکم کواپنے ساتھ ملا کر قوت کے ذریعے سے ان مظاہر شرک کا خاتمہ فرمایا اوراسی دعوت کی تجدید ایک مرتبہ پھر سلطان عبدالعزیز والی نجد وحجاز (موجودہ سعودی حکمرانوں کے والد اور اس مملکت کے بانی) نے کی اور تمام پختہ قبروں اور قبوں کو ڈھا کر سنت نبوی ﹲ کااحیاء فرمایااور یوں الحمد للہ اب پورے سعودی عرب میں اسلام کے احکام کے مطابق نہ کوئی پختہ قبر ہے اور نہ کوئی مزار۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 19 - 20 کی تفسیر

    [19، 20] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ہدایت اور دین حق جس کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ e مبعوث ہوئے تھے، نیز عبادت الٰہی اور توحید الٰہی کا ذکر کرنے کے بعد اس مسلک کے بطلان کا ذکر فرمایا جس پر مشرکین گامزن تھے، یعنی ایسی ہستیوں کی عبادت، جو اوصاف کمال سے محروم ہیں، جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، یہ معانی سے خالی محض نام ہیں جن کو مشرکین اور ان کے جاہل اور گمراہ آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے، انھوں نے ان کے لیے اسمائے باطلہ ایجاد کیے، جن کی وہ مستحق نہ تھیں، پس انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دیگر گمراہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا۔ جن معبودوں کا یہ حال ہو وہ عبادت کا ذرہ بھر استحقاق نہیں رکھتے۔ یہ خود ساختہ ہمسر جن کو انھوں نے ان ناموں سے موسوم کیا ہے اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ یہ نام ان اوصاف سے مشتق ہیں، جن سے یہ متصف ہیں۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد اور شرک کی جسارت کرتے ہوئے لات کو الٰہ سے مشتق کر کے موسوم کیا جو عبادت کا مستحق ہے، عزیز سے عزّٰی اورمنان سے منات کو مشتق کیا۔ یہ تمام نام معانی سے خالی ہیں، چنانچہ ہر وہ شخص جو ادنیٰ سی عقل سے بہرہ مند ہے وہ ان نام نہادمعبودوں کے اندر ان اوصاف کے بطلان کا علم رکھتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقمرالقمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید