النجم

نجم

62 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 23

    إِنْ هِىَ إِلَّآ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهْوَى ٱلْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلْهُدَىٰٓ

    دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 23 کی تفسیر

    [23] ﴿ اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰ٘نٍ﴾ ’’یہ تو صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں۔ اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔‘‘ یعنی تمھارے مذہب کے صحیح ہونے پر تمھارے پاس کوئی دلیل و برہان نہیں۔ ہر وہ امر جس پر اللہ تعالیٰ نے دلیل نازل نہ کی ہو، باطل اور فاسد ہوتا ہے، اسے دین نہیں بنایا جا سکتا۔ درحقیقت وہ کسی دلیل و برہان کی پیروی نہیں کرتے کہ انھیں اپنے مذہب کے صحیح ہونے کا یقین ہو۔ محض گمان فاسد، جہالت، خواہشات نفس پر مبنی مشرکانہ عقائد اور خواہشات نفس کے موافق بدعات ان کے نظریات کی دلیل ہیں، حالانکہ علم و ہدایت کے فقدان کی وجہ سے، وہم و گمان کے سوا کوئی ایسا موجب نہیں جو اس کا تقاضا کرتا ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰؔى ﴾ ’’اور البتہ یقیناً ان کے رب کی طرف سے، ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔‘‘ جو توحید و نبوت اور ان تمام امور میں ان کی راہ نمائی کرتی ہے، بندے جن کے محتاج ہیں، پس ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین، واضح ترین اور مضبوط ترین دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے اس پر دلائل و براہین قائم کیے ہیں جو ان کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے اتباع کے موجب ہیں۔ اس بیان و برہان کے بعد کسی کے لیے کوئی حجت اور عذر باقی نہیں رہا۔جب ان کے مذہب کی غرض و غایت محض ظن و گمان کی پیروی، اس کی انتہا شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی ہے، تو (ان کا) اس حال پر باقی رہنا سب سے بڑی سفاہت اور سب سے بڑا ظلم ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقمرالقمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید