النجم

نجم

62 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 32

    ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَـٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَـٰتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ

    ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی[1] ۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے[2]۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے[3]۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو[4]، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے.

    حواشی

    [1] كَبَائِرُ، كَبِيرَةٌ کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہروہ گناہ کبیرہ ہے جس پر جہنم کی وعیدہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسے کبیرہ گنا ہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیقی میں الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فَوَاحِشُ، فَاحِشَةٌ کی جمع ہے، بےحیائی پر مبنی کام، جیسے زنا، لواطت وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں، جن گناہوں میں حد ہے، وہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ آج کل بے حیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہو گئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو تہذیب سمجھ لیا گیا ہے، حتیٰ کہ اب مسلمانوں نے بھی اب اس تہذیب بے حیائی کو اپنا لیا ہے۔ چنانچہ گھروں میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا ہے،بلکہ بن سنورکر اور حسن وجمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنا لیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد وزن کا بےباکانہ اختلاط اور بےمحابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ جن کی بابت یہاں بتلایا جا رہاہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر وفواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔ [2] لَمَمٌ کےلغوی معنی ہیں، کم اورچھوٹا ہونا، اسی سے اس کے یہ استعمالات ہیں أَلَمَّ بِالْمَكَانِ(مکان میں تھوڑی دیر ٹھہرا) أَلَمَّ بِالطَّعَامِ (تھوڑسا کھایا) ، اسی طرح کسی چیز کو محض چھو لینا، یا اس کے قریب ہونا، یا کسی کام کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کرنا، اس پر دوام و استمرار نہ کرنا، یا محض دل میں خیال کا گزرنا، یہ سب صورتیں لَمَمٌ کہلاتی ہیں، (فتح القدیر) اس کے اس مفہوم اور استعمال کی رو سے اس کے معنی صغیرہ گناہ کیے جاتےہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کےمبادیات کا ارتکاب، لیکن بڑےگناہ سے اجتناب کرنا، یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کامﺤﺾ دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادےگا۔ [3] أَجِنَّةٌ، جَنِينٌ کی جمع ہے جو پیٹ کے بچےکو کہا جاتا ہے،اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سےمستور ہوتا ہے۔ [4] یعنی جب اس سے تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتیٰ کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پرقادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے وہ واقف تھا، تو پھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 32 کی تفسیر

    [32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محسنین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ ’’جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ ان واجبات پر عمل کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے جن کا ترک کرنا کبائر میں شمار ہوتا ہے، وہ بڑے بڑے محرمات کو ترک کرتے ہیں ، مثلاً: زنا، شراب نوشی، سود خوری، قتل ناحق اور دیگر بڑے بڑے گناہ۔ ﴿ اِلَّا اللَّمَمَ﴾ ’’الا یہ کہ کوئی صغیرہ گناہ (سرزد) ہو۔‘‘ اس سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن پر بندہ مصر نہیں ہوتا یا بار بار ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا، ان صغیرہ گناہوں کا مجرد ارتکاب بندے کو محسنین کے زمرے سے نہیں نکالتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ، واجبات پر عمل کرنے، اور محرمات کو چھوڑنے سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے تحت داخل ہو جاتے ہیں، جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے ۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْ٘مَغْفِرَةِ﴾ ’’بے شک آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے۔‘‘ پس اگر اللہ تعالیٰ کی مغفرت نہ ہوتی تو تمام روئے زمین اور بندے تباہ ہو جاتے، اگر اس کا عفو و حلم نہ ہوتا توآسمان زمین پر آگرتا اور روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ بنابریں نبی ٔاکرم e نے فرمایا: ’’پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک، ان کے درمیان ہونے والے تمام (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہیں، اگر کبائر سے اجتناب کیا جائے۔‘‘ (صحیح مسلم، الطہارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ ......، حدیث: 233) ﴿ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ﴾ ’’وہ تمھیں (اس وقت سے) بخوبی جانتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے احوال، تمھاری جبلتوں کو جو اس نے پیدا کی ہیں، خوب جانتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو حکم دیا ہے ان میں سے بہت سے احکام کی تعمیل میں تمھاری کمزوری اور سستی کو، محرمات کے ارتکاب پر آمادہ کرنے والے دواعی کی کثرت کو، ان محرمات کی طرف راغب کرنے والے جذبات کو، اور محرمات کے ارتکاب کی راہ میں حائل ہونے والے موانع کے عدم وجود کو زیادہ جانتا ہے۔ تمھارے اندر کمزوری موجود ہے جس کا مشاہدہ اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں جس زمین سے نکالا اور جب تم اپنی ماؤ ں کے پیٹوں میں تھے اور یہ کمزوری تمھارے اندر ہمیشہ موجود رہی۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک چیز کا حکم دیا اگرچہ اس کی تعمیل کے لیے اس نے تمھارے اندر قوت رکھی مگر پھر بھی کمزوری تمھارے اندر موجود رہی۔ پس اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ان احوال کا علم رکھتا ہے، حکمت الٰہی اور جُودِ ربّانی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی رحمت و مغفرت، اپنے عفو و درگزر اور اپنے احسان سے ڈھانپ لے اور تم سے تمام جرائم اور گناہوں کو دور کر دے۔ خاص طور پر جبکہ ہر وقت بندے کا مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول، ہر آن ایسے اعمال میں کوشش جو اس کے قریب کرتے ہیں اور ایسے گناہوں سے فرار جو اس کے آقا کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ، پھر اس سے لغزش صادر ہوجائے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم اور سب سے بڑا جواد ہے وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔ پس اس قسم کے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی مغفرت کے قریب رہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام احوال میں اس کی دعائیں قبول کرے۔ بنابریں فرمایا :﴿ فَلَا تُزَؔكُّـوْۤا اَنْفُسَكُمْ﴾ ’’لہٰذا تم اپنے آپ کی پاکیزگی بیان نہ کرو۔‘‘ یعنی مدح کے حصول کی خواہش کی بنا پر لوگوں کو اپنے نفس کی طہارت کی خبر نہ دیتے پھرو ﴿ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّ٘قٰى﴾ ’’وہ اسے (بھی) خوب جانتا ہے جس نے تقویٰ اختیا رکیا۔‘‘ تقویٰ کا مقام دل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے مطلع ہے ۔دل کے اندر جو نیکی، بدی یا تقویٰ موجود ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جزا دے گا، رہے لوگ تو وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمھارے کام نہیں آ سکتے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 32 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقمرالقمر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید