القمر

قمر

55 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    ٱقْتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ

    قیامت قریب آ گئی[1] اور چاند پھٹ گیا.[2]

    حواشی

    [1] ایک تو بہ اعتبار اس زمانےکے جو گزر گیا،کیونکہ جو باقی ہے، وہ تھوڑا ہے۔ دوسرے، ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اپنی بابت فرمایا کہ میرا وجود قیامت سےمتصل ہے، یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئےگا۔ [2] یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا، چاندکے دو ٹکڑے ہو گئے حتیٰ کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا۔ یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ (صحيح بخاري، كتاب مناقب الأنصار، باب انشقاق القمر وتفسير سورة اقتربت الساعة، وصحيح مسلم كتاب صفة القيامة، باب انشقاق القمر) جمہور سلف وخلف کا یہی مسلک ہے (فتح القدیر) امام ابن کثیر لکھتے ہیں ”علماء کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر نبی (صلى الله عليه وسلم) کے زمانے میں ہوا اور یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند سے ثابت احادیث متواترہ اس پردلالت کرتی ہیں“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 کی تفسیر

    [1] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفیe جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔ انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد (e) نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد e تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴾ ’’یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ محمد (e) نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترحمنالرحمن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید