القمر

قمر

55 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 14

    تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ

    جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 14 کی تفسیر

    [14] ﴿ تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّ٘مَنْ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿ قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰ٘مٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَیْكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ (ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترحمنالرحمن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید