القمر

قمر

55 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    ۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌ وَٱزْدُجِرَ

    ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور یہ دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا.[1]

    حواشی

    [1] وَازْدُجِرَ وَازْتُجِرَ ہے، یعنی قوم نوح نے نوح (عليه السلام) کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی۔ جیسے دوسرےمقام پر فرمایا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ (الشعراء: 116) ”اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسارکر دیا جائے گا“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 9 کی تفسیر

    [9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول e کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا﴾ (نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا : ﴿ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّ ازْدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترحمنالرحمن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید