الرحمن

رحمن

78 آیاتمدنیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 77

    فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس (اے جنو اور انسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]

    حواشی

    [1] یہ آیت اس سورت میں 31 مرتبہ آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنی اقسام وانواع کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر نعمت یا چند نعمتوں کے ذکر کے بعد یہ استفسار فرمایا ہے، حتیٰ کہ میدان محشر کی ہولناکیوں اور جہنم کے عذاب کے بعد بھی یہ استفسار فرمایاہے، جس کا مطلب ہے کہ امور آخرت کی یاد دہانی بھی نعمت عظیمہ ہے تاکہ بچنے والے اس سے بچنے کی سعی کر لیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی، کہ جن بھی انسانوں کی طرح اللہ کی ایک مخلوق ہے بلکہ انسانوں کے بعدیہ دوسری مخلوق ہے جسے عقل وشعور سے نوازا گیا ہے اور اس کے بدلے میں ان سے صرف اس امر کا تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ مخلوقات میں یہی دو ہیں جو شرعی احکام وفرائض کے مکلف ہیں، اسی لیے انہیں ارادہ واختیار کی آزادی دی گئی ہے۔ تاکہ ان کی آزمائش ہو سکے، تیسرے نعمتوں کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا جائز ومستحب ہے۔ یہ زہد وتقویٰ کے خلاف ہے اور نہ تعلق مع اللہ میں مانع، جیساکہ بعض اہل تصوف باورکراتے ہیں۔ چوتھے، بار بار یہ سوال کہ تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے؟ یہ توبیخ اور تہدید کے طور پر ہے، جس کا مقصد اس اللہ کی نافرمانی سے روکنا ہے، جس نے یہ ساری نعمتیں پیدا اور مہیا فرمائیں۔ اسی لیے نبی ﹲ نے اس کے جواب میں یہ پڑھنا پسند فرمایا ”لا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ“ اے ہمارے رب ہم تیری کسی بھی نعمت کی تکذیب نہیں کرتے، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں (سنن الترمذي، والصحيحة للألباني) لیکن اندرون صلاۃ اس جواب کاﭘڑھنا مشروع نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 76 - 77 کی تفسیر

    [76 - 77] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰ٘نِ﴾ (الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِیْهِمَا عَیْنٰ٘نِ تَجْرِیٰنِ﴾ (الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِیْہِمَاعَیْنٰ٘نِ نَضَّاخَتٰ٘نِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ﴾ (الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِیْهِمَا مِنْ كُ٘لِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾ (الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَجَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّ﴾ (الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ﴾ (الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ﴾ (الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 77 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتواقعہالواقعة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید