الواقعة

واقعہ

96 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 17

    يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌ مُّخَلَّدُونَ

    ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی[1] ) رہیں گے آمدورفت کریں گے.

    حواشی

    [1] یعنی وہ بڑے نہیں ہوں گے کہ بوڑھے ہو جائیں نہ ان کے خدوخال اور قدوقامت میں کوئی تغیر واقع ہوگا،بلکہ ایک ہی عمر اور ایک ہی حالت پر رہیں گے، جیسےنوعمر لڑکےہوتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 - 19 کی تفسیر

    [17 - 18] ﴿ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ﴾ (الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكْوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَ٘ارِیْقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ﴾ اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔ [19] ﴿ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا یُنْزِفُوْنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فِیْهَاۤ اَنْ٘هٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنْ٘هٰرٌ مِّنْ لَّـبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَاَنْ٘هٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّ٘لشّٰرِبِیْنَ١ۚ ۬ وَاَنْ٘هٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّ٘صَفًّى﴾ (محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحدیدالحديد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید