الواقعة

واقعہ

96 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ

    وه پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی.[1]

    حواشی

    [1] پستی اور بلندی سے مطلب ذلت اور عزت ہے۔ یعنی اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند اور نافرمانوں کو پست کرے گی، چاہےدنیا میں معاملہ اس کے برعکس ہو۔ اہل ایمان وہاں معزز و مکرم ہوں گےاور اہل کفر و عصیان ذلیل و خوار۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 3 کی تفسیر

    [1 - 3] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَ٘یْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾ ’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحدیدالحديد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید