الواقعة

واقعہ

96 آیاتمکیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 35

    إِنَّآ أَنشَأْنَـٰهُنَّ إِنشَآءً

    ہم نے ان کی (بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 35 - 38 کی تفسیر

    [35 - 38] یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔ ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبً٘ا اَ٘تْرَابً٘ا﴾ ’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔ یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحدیدالحديد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید