الحديد

حدید

29 آیاتمدنیپارہ 27

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ٱبْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَـٰهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَـَٔاتَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَـٰسِقُونَ

    ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا[1] ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا[2] تھا سوائے اللہ کی رضاجوئی کے[3]۔ سو انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی[4]، پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان ﻻئے تھے۔ انہیں ان کا اجر دیا[5] اور ان میں زیاده تر لوگ نافرمان ہیں.[6]

    حواشی

    [1] رَأْفَةٌ کےمعنی نرمی اور رحمت کے معنی شفقت کے ہیں۔ پیروکاروں سےمراد حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے حواری ہیں۔ یعنی ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کر دیے۔ جیسے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ایک دوسرے کے لیے رحیم وشفیق تھے۔ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ - یہود، آپس میں اس طرح ایک دوسرے کے ہمدرد اور غم خوار نہیں، جیسے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے پیروکار تھے۔ [2] رَهْبَانِيَّةٌ، رَهْبٌ (خوف) سے ہے یا رُهْبَانٌ (درویش) کی طرف منسوب ہے اس صورت میں ”رے“ پر پیش رہے گا، یا اسے رہبنہ کی طرف منسوب مانا جائے تو اس صورت میں ”رے“ پر زبر ہوگا۔ رہبانیت کا مفہوم ترک دنیا ہے یعنی دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحراء میں جا کر اللہ کی عبادت کرنا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بعد ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نےتورات اور انجیل میں تبدیلی کر دی، جسے ایک جماعت نےقبول نہیں کیا۔ انہوں نے بادشاہوں کے ڈر سے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ حاصل کرلی۔ یہ اس کا آغاز تھا، جس کی بنیاد اضطرار پر تھی۔ لیکن ان کے بعد آنے والے بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کو اندھی تقلید میں اس شہربدری کو عبادت کا ایک طریقہ بنا لیا اور اپنے آپ کو گرجاؤں اور معبدوں میں محبوس کر لیا اور اس کے لیے علائق دنیا سے انقطاع کو ضروری قراردے لیا۔ اسی کو اللہ نے ابتداع (خود گھڑنے) سے تعبیر فرمایا ہے۔ [3] یہ پچھلی بات ہی کی تاکید ہے کہ یہ رہبانیت ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ نے اس کاﺣﻜﻢ نہیں دیا تھا۔ [4] یعنی ہم نے تو ان پر صرف رضا جوئی فرض کی تھی۔ دوسرا ترجمہ اس کا ہے کہ انہوں نے یہ کام اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لیے کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی کہ اللہ کی رضا، دین میں اپنی طرف سے بدعات ایجاد کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی، چاہے وہ کتنی ہی خوش نما ہو۔ اللہ کی رضا تو اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہو گی۔ [5] یعنی گو انہوں نے مقصد اللہ کی رضاجوئی بتلایا، لیکن اس کی انہوں نے پوری رعایت نہیں کی، ورنہ وہ ابتداع (بدعت ایجاد کرنے) کے بجائے اتباع کا راستہ اختیار کرتے۔ [6] یہ وہ لوگ ہیں جو دین عیسیٰ پر قائم رہے تھے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 27 کی تفسیر

    [27] ﴿ ثُمَّ قَفَّیْنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْ٘یَهُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَؔكُوْا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَ٘قْ٘رَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَ٘صٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۠﴾ (المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهْبَانِیَّةَنِ ابْتَدَعُوْهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیe پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِیْرٌ مِّؔنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمجادلہالمجادلة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید