المجادلة

مجادلہ

22 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَنَـٰجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَـٰجَوْا۟ بِٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَمَعْصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَتَنَـٰجَوْا۟ بِٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

    اے ایمان والو! تم جب سرگوشی کرو تو یہ سرگوشیاں گناه اور ﻇلم (زیادتی) اور نافرمانیٴ پیغمبر کی نہ ہوں[1] ، بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں پر سرگوشی کرو[2] اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے.

    حواشی

    [1] جس طرح یہود اور منافقین کا شیوہ ہے۔ یہ گویا اہل ایمان کو تربیت اور کردار سازی کے لیے کہا جارہا ہے۔ کہ اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو تو تمہاری سرگوشیاں یہود اور اہل نفاق کی طرح اثم وعدوان پر نہیں ہونی چاہیں۔ [2] یعنی جس میں خیر ہی خیر ہو اور جو اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت پر مبنی ہو۔ کیونکہ یہی نیکی اور تقویٰ ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 8 - 9 کی تفسیر

    [8، 9] ﴿ النَّجْوٰى﴾ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ۔کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔(اَلْبِرُّ) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے۔ ﴿ التَّقْوٰى﴾ تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کر دینے کے لیے جامع نام ہے پس بندۂ مومن اس حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (اَلْفَاجِر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے، جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے، جیسے منافقین، جن کا رسول اللہ e کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ﴾ ’’اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔‘‘ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ﴾ یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے: ﴿ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ﴾ ’’اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔‘‘ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیچ سمجھتے ہیں، اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے، مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ﴾ یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے، جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ﴾ ’’پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ یہ لوگ جن کا (ان آیا ت کریمہ میں)ذکر کیا گیا ہے، یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ e سے اس خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہوتے تھے، جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ e کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (السَّامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدُ)اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحشرالحشر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید