الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 12

    لَئِنْ أُخْرِجُوا۟ لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا۟ لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ ٱلْأَدْبَـٰرَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

    اگر وه جلاوطن کیے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد (بھی) نہ کریں[1] گے اور اگر (بالفرض) مدد پر آبھی گئے[2] تو پیٹھ پھیر کر (بھاگ کھڑے) ہوں[3] گے پھر مدد نہ کیے جائیں گے.[4]

    حواشی

    [1] یہ منافقین کے گزشتہ جھوٹے وعدوں ہی کی مزید تفصیل ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، بنو نضیر، جلاوطن اور بنو قریظہ قتل اور اسیر کیے گئے، لیکن منافقین کسی کی مدد کو نہیں پہنچے۔ [2] یہ بطور فرض، بات کی جارہی ہے، ورنہ جس چیز کی نفی اللہ تعالیٰ فرما دے، اس کا وجود کیوں کر ممکن ہے، مطلب ہے کہ اگر یہود کی مدد کرنے کا ارادہ کریں۔ [3] یعنی شکست کھا کر۔ [4] مراد یہود ہیں، یعنی جب ان کے مددگار منافقین ہی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے تو یہود کس طرح منصور وکامیاب ہوں گے؟ بعض نے اس سے مراد منافقین لیے ہیں کہ وہ مدد نہیں کیے جائیں گے ، بلکہ اللہ ان کو ذلیل کرے گا اور ان کا نفاق ان کے لیے نافع نہیں ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 12 کی تفسیر

    [12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنْ نَّ٘صَرُوْهُمْ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَیُوَلُّ٘نَّ الْاَدْبَ٘ارَؔ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید