الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 14

    لَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِى قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَآءِ جُدُرٍۭ ۚ بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ

    یہ سب مل کر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیواروں کی آڑ میں ہوں[1] ، ان کی لڑائی تو ان میں آپس میں ہی بہت سخت ہے[2] گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں[3]۔ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں.[4]

    حواشی

    [1] یعنی یہ منافقین اور یہودی مل کر بھی کھلے میدان میں تم سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ البتہ قلعوں میں محصور ہو کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر تم پر وار کرسکتے ہیں، جس سے یہ واضح ہے کہ یہ نہایت بزدل ہیں اور تمہاری ہیبت سے لرزاں وترساں ہیں۔ [2] یعنی آپس میں یہ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں۔ اس لیے ان میں باہم تو تکار اور تھکا فضیحتی عام ہے۔ [3] یہ منافقین کا آپس میں دلوں کا حال ہے۔ یا یہود اور منافقین کا، یا مشرکین اور اہل کتاب کا۔ مطلب یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں یہ ایک نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کے دل ایک نہیں ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بغض وعناد سے بھرے ہوئے۔ [4] یعنی یہ اختلاف اور تشتت ان کی بےعقلی کی وجہ سے ہے، اگر ان کے پاس سمجھنے والی عقل ہوتی تو یہ حق کو پہچان لیتے اور اسے اپنا لیتے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 14 کی تفسیر

    [14] ﴿ لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِیْ قُ٘رًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَ٘اْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا : ﴿ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘ اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولe کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید