الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    كَمَثَلِ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ۖ ذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    ان لوگوں کی طرح جو ان سے کچھ ہی پہلے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا[1] اور جن کے لیے المناک عذاب (تیار) ہے.[2]

    حواشی

    [1] اس سے بعض نے مشرکین مکہ مراد لیے ہیں، جنہیں غزوۂ بنی نضیر سے کچھ عرصہ قبل جنگ بدر میں عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ یعنی یہ بھی مغلوبیت اور ذلت میں مشرکین ہی کی طرح ہیں جن کا زمانہ قریب ہی ہے۔ بعض نے یہود کے دوسرے قبیلے بنو قینقاع کو مراد لیا ہے جنہیں بنو نضیر سے قبل جلاوطن کیا جاچکا تھا، جو زمان ومکان دونوں لحاظ سے ان کے قریب تھے۔ (ابن کثیر)۔ [2] یعنی یہ وبال جو انہوں نے چکھا، یہ تو دنیا کی سزا ہے ، آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے جو نہایت درد ناک ہوگی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 کی تفسیر

    [15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَ٘رِیْبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا : ﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّـكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الْفِئَتٰ٘نِ نَكَ٘صَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَقَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّؔنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ e اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولe اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوْا وَبَ٘الَ اَمْرِهِمْ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمْ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید