الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 20

    لَا يَسْتَوِىٓ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ وَأَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۚ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ

    اہل نار اور اہل جنت (باہم) برابر نہیں[1] ۔ جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں (اور جو اہل نار ہیں وه ناکام ہیں).[2]

    حواشی

    [1] جنہوں نے اللہ کو بھول کر یہ بات بھی بھلائے رکھی کہ اس طرح وہ خود اپنے ہی نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں اور ایک دن آئے گا کہ اس کے نتیجے میں ان کے یہ جسم، جن کے لیے دنیا میں وہ بڑے بڑے پاپڑ بیلتے تھے، جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ اور ان کے مقابلے میں دوسرے وہ لوگ تھے، جنہوں نے اللہ کو یاد رکھا، اس کے احکام کے مطابق زندگی گزاری۔ ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور اپنی جنت میں انہیں داخل فرمائے گا، جہاں ان کے آرام وراحت کے لیے ہر طرح کی نعمتیں اور سہولتیں ہوں گی۔ یہ دونوں فریق یعنی جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوں گے۔ بھلا یہ برابر ہو بھی کس طرح سکتے ہیں۔ ایک نے اپنے انجام کو یاد رکھا اور اس کے لیے تیاری کرتا رہا۔ دوسرا، اپنے انجام سے غافل رہا اس لیے اس کے لیے تیاری میں بھی مجرمانہ غفلت برتی۔ [2] جس طرح امتحان کی تیاری کرنے والا کامیاب اور دوسرا ناکام ہوتا ہے۔ اسی طرح اہل ایمان وتقویٰ جنت کے حصول میں کامیاب ہو جائیں گے، کیونکہ اس کے لیے وہ دنیا میں نیک عمل کرکے تیاری کرتے رہے گویا دنیا دارالعمل اور دارالامتحان ہے۔ جس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا اور اس نے انجام سے بےخبر ہوکر زندگی نہیں گزاری، وہ کامیاب ہوگا اور جو دنیا کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر اور انجام سے غافل ، فسق وفجور میں مبتلا رہا، وہ خاسر وناکام ہوگا۔ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْفَائِزِينَ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 20 کی تفسیر

    [20] پس کیا وہ شخص جو تقویٰ کی حفاظت کرتا ہے اور اس چیز پر نظر رکھتا ہے جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجی ہے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، یعنی نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ نعمتوں بھری جنت اور تکدر سے سلامت زندگی کا مستحق ہوا۔ اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوا، اس نے اس کے حقوق فراموش کر دیے پس وہ دنیا میں بدبخت ٹھہرا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوا۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقینا نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ کامیاب ہیں اور دوسری قسم کے لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید