الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    هُوَ ٱللَّهُ ٱلْخَـٰلِقُ ٱلْبَارِئُ ٱلْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

    وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ وجود بخشنے واﻻ[1] ، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں[2]، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے[3]، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے.[4]

    حواشی

    [1] کہتے ہیں کہ خلق کا مطلب ہے اپنے ارادہ ومشیت کے مطابق اندازہ کرنا اور برأ کے معنی ہیں اسے پیدا کرنا، گھڑنا، وجود میں لانا۔ [2] اسمائے حسنیٰ کی بحث سورۂ اعراف: 180 میں گزر چکی ہے۔ [3] زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ [4] جس چیز کا بھی فیصلہ کرتا ہے، وہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] ﴿ هُوَ اللّٰهُ الْؔخَالِـقُ﴾ جو تمام مخلوقات کا خالق ہے ﴿ الْبَارِئُ﴾ جو تمام کائنات کو نیست سے ہست (عدم سے وجود) میں لاتا ہے ﴿ الْمُصَوِّرُ﴾ وہ تمام صورت رکھنے والوں کی صورت گری کرتا ہے۔ یہ تمام اسمائے حسنیٰ تخلیق و تدبیر اور تقدیر سے متعلق ہیں، ان تمام اوصاف میں اللہ تبارک و تعالیٰ متفرد ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ﴿ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰؔى﴾ یعنی اس کے بہت زیادہ نام ہیں جن کو کوئی معلوم کر سکتا ہے نہ شمار کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تمام نام اچھے ہیں، یعنی اس کے تمام نام صفات کمال ہیں بلکہ یہ اسماء کامل ترین اور عظیم ترین صفات پر دلالت کرتے ہیں، جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی نقص نہیں۔ ان اسماء کا حسن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے اور وہ اس شخص کو بھی پسند کرتا ہے جو ان اسماء کو پسند کرتا ہے ۔وہ اپنے بندوں سے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کو پکاریں اور ان ناموں کے واسطے سے اس سے سوال کریں۔ یہ اس کا کمال ہے کہ وہ اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کا مالک ہے، نیز یہ کہ آسمانوں اور زمین میں رہنے والے دائمی طور پر اس کے محتاج ہیں، اس کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس سے اپنی تمام حوائج کا سوال کرتے ہیں۔ وہ اپنے فضل و کرم سے انھیں وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جس کا تقاضا اس کی رحمت اور حکمت کرتی ہے۔ ﴿ وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴾ یعنی وہ جس چیز کا بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو جاتی ہے، اور جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید